فلاح انسانیت
Urdu book, p. 325
By Maulana Wahiduddin Khan
فرد اور سماج قرآن کی سورہ نمبر ۱۳ میں ارشاد ہوا ہے کہ۔ بے شک خدا کسی قوم کی حالت کو نہیں بدلتا جب تک کہ وہ اس کو نہ بدل ڈالیں جو ان کے جی میں ہے (انّ الله لا يغير ما بقوم حتى يغيروا ما بأنفسهم) الرعد 11 کسی قوم یا سماج کی حالت کا انحصار اس کے افراد پر ہے۔ کسی انسانی مجموعہ میں فرد کی حیثیت جزء کی ہوتی ہے اور مجموعہ کی حیثیت کل کی۔ یہ فطرت کا قانون ہے کہ کسی چیز کا جزء جیسا ہو ویسا ہی اس کا کل ہو ۔ یہی اصول انسانی سماج کے لیے بھی ہے ۔ سماج کی حالت کو بہتر بنانے کی واحد صورت یہ ہے کہ اس کے افراد کو بہتر بنایا جائے ۔ افراد کی تعلیم اگر اچھی ہوگی ، ان کے اندر اگر اعلیٰ کیر یکٹر ہوگا ، وہ اگر صبر و برداشت کی صفت کے حامل ہوں گے ، ان کا مزاج اگر ایسا ہوگا جو اتحاد کو پسند کرے اور اختلاف کو ناپسند ، جو منفی باتوں سے دور رہے اور صرف مثبت باتوں سے دل چسپی لے ، جس سماج میں ایسے افراد ہوں وہ سماج لازما ترقی کرے گا۔ وہ حقیقی معنوں میں انسانی سماج کے درجہ کو پہنچے گا۔ اس کے برعکس ، اگر سماج کے افراد جاہل اور بے شعور ہوں ، ان میں کردار کی طاقت موجود نہ ہو، وہ تشدد کا مزاج رکھتے ہوں ، ان کی سوچ پر جذباتی رجحان غالب رہتا ہو ، وہ اتحاد کی اہمیت کو نہ جانیں اور جب بھی کوئی خلاف مزاج بات پیش آئے تو وہ بے برداشت ہو کر ٹکراؤ کا طریقہ اختیار کر لیں ، ایسے لوگ کسی سماج کے لیے بوجھ ہیں۔ فرد کا بناؤ سماج کا بناؤ ہے ، اور فرد کا بگڑاڑ سماج کا بگڑاڑ ۔ جب بھی کسی سماج کی حالت سدھارنے کی ضرورت ہو تو سارا زور اس کے افراد کی اصلاح پر دینا ہوگا۔ ایسے موقع پر یہ ضرورت ہوتی ہے کہ سماج کے افراد کے اندر صحیح سوچ پیدا کی جائے ۔ ان کے علم کے معیار کو بڑھایا جائے ۔ ان کے اندر صحیح مزاج لانے کی کوشش کی جائے ، ان کو اس قابل بنایا جائے کہ وہ ناخوش گوار مواقع پر اپنے آپ کو رد عمل کی نفسیات سے بچائیں اور حالات سے غیر متاثر رہ کر درست فیصلے سکیں۔ ایسے افراد کی تیاری ہی کا دوسرا نام سماج کی اصلاح ہے۔ سماج ہمیشہ فرد سے بنتا ہے نہ کہ فرد سماج سے ۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader