Urdu book · اسلام ایک تعارف

فلاح انسانیت

Urdu book, p. 330

By Maulana Wahiduddin Khan

اعلیٰ کردار حدیث میں آیا ہے کہ پیغمبر اسلام ﷺ نے فرمایا کہ تم اس سے جڑو جو تم سے کٹے اور تم اس کو دو جو تم کو محروم کرے۔ اور تم اس کو معاف کرو جو تم پر ظلم کرے (تصل من تطعك وتعطى من حرمك وتعفو عمن ظلمك)۔ اس حدیث میں کردار کا وہ طریقہ بتایا گیا ہے جو کسی انسان کو اعلیٰ انسان بناتا ہے۔ وہ طریقہ یہ ہے کہ آدمی رد عمل کی نفسیات سے پاک ہو۔ اس کا اخلاق جوابی اخلاق نہ ہو بلکہ وہ اعلیٰ انسانی اصولوں کے تحت متعین ہوا ہو۔ وہ ہر ایک سے یکساں طور پر حسنِ اخلاق کا رویہ اختیار کرے، خواہ اس سے اچھا تجربہ ہو یا برا تجربہ۔ سماجی زندگی میں ایسا ہوتا ہے کہ ایک شخص کو آپ سے شکایت ہوتی ہے اور وہ آپ سے قطع تعلق کرلیتا ہے یا سلام وکلام بند کردیتا ہے۔ ایسی حالت میں آپ کو بھی وہی نہیں کرنا ہے جو اس نے آپ کے ساتھ کیا ہے۔ اس کے برعکس آپ کو یک طرفہ طور پر اس سے ملنا ہے۔ آپ کو یک طرفہ طور پر اس سے سلام وکلام جاری رکھنا ہے۔ یہ سب کچھ محض ظاہری طور پر نہیں بلکہ دل کی پوری آمادگی کے ساتھ ہونا چاہئے۔ اسی طرح کبھی ایسا ہوتا ہے کہ ایک شخص آپ سے غصہ ہو جاتا ہے اور جو کچھ وہ آپ کو دے رہا تھا اس کو دینا بند کردیتا ہے۔ ایسی حالت میں آپ کو یہ نہیں کرنا چاہئے کہ آپ بھی اس کو جو کچھ دے سکتے ہیں وہ اسے نہ دیں۔ اس کے برعکس آپ کو اپنے عطیات کا سلسلہ جاری رکھنا چاہئے۔ آپ جو کچھ اسے دے سکتے ہیں، وہ ضرور اسے دیں۔ اور دینے کے بعد کسی واپسی کی امید نہ رکھیں۔ اسی طرح اجتماعی زندگی میں کبھی ایسا ہوتا ہے کہ ایک شخص آپ کے ساتھ ایسا معاملہ کرتا ہے جو آپ کی نظر میں ظلم ہوتا ہے۔ اس وقت آپ کے دل میں غصہ بھڑک اٹھتا ہے۔ مگر اعلیٰ انسانیت یہ ہے کہ آپ غصہ کو ختم کردیں۔ ظلم کرنے والے کو معاف کر کے دوبارہ اس کے ساتھ اپنے تعلقات کو معتدل بنالییں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page