Urdu book · اسلام ایک تعارف

فلاح انسانیت

Urdu book, p. 331

By Maulana Wahiduddin Khan

بدگمانی صحیح بخاری اور صحیح مسلم دونوں میں یہ روایت آئی ہے کہ پیغمبر اسلام نے لوگوں کو ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ تم لوگ گمان سے بہت زیادہ بچو، کیوں کہ گمان سب سے بڑا جھوٹ ہے (ایاکم والظن فان الظن اکذب الحدیث) متفق علیہ۔ گمان یہ ہے کہ آدمی پوری معلومات کے بغیر کسی کے بارے میں ایک رائے قائم کرلے۔ ہر آدمی کی اپنی ایک دنیا ہوتی ہے۔ ہر آدمی کا عمل بہت سے اسباب کے تحت ہوتا ہے۔ ایسی حالت میں کامل تحقیق کے بغیر کسی کے عمل کی حقیقت کو جاننا ممکن نہیں۔ کوئی شخص کسی کا صرف ایک عمل دیکھ کر اس کے بارے میں کوئی رائے قائم کرلے تو یہ گمان ہوگا۔ اور گمان کسی کے لئے بھی جائز نہیں۔ آدمی کے ہر عمل کے بہت سے پہلو ہوتے ہیں، اس لئے اس کی توجیحات بھی متنوع اور مختلف ہوتی ہیں۔ دوسروں کے بارے میں آدمی کا مشاہدہ یا تجربہ ہمیشہ جزئی مشاہدہ اور تجربہ ہوتا ہے۔ ایسی حالت میں کسی کی ایک روش کو دیکھ کر اس کے خلاف برا گمان کرنا گویا جزئی علم کو کلی علم سمجھ لیتا ہے۔ ناقص معلومات پر کامل واقفیت کا دعویٰ کرتا ہے۔ اس لئے کسی کے خلاف بدگمانی عین اسی قسم کی ایک چیز بن جاتی ہے جیسا کہ جھوٹ۔ جھوٹ اخلاقی حیثیت سے انتہائی معیوب کلام ہے۔ وہ خدائی شریعت کے اعتبار سے سراسر ناجائز ہے۔ ایسی حالت میں جو آدمی کسی کے خلاف بدگمانی کرتا ہے تو وہ ایک بے حد سنگین جرم کا ارتکاب کرتا ہے۔ ایسا کر کے وہ خدا کی نظر میں اپنے آپ کو ایک غیر مطلوب بندہ بنا لیتا ہے۔ اور انسانوں کی نظر میں وہ ایک ایسا شخص بن جاتا ہے جس سے تمام لوگ نفرت کریں۔ جس کو سماج میں با عزت درجہ نہ ملے۔ گمان کی بنیاد پر کسی کے خلاف رائے قائم کرنے سے بہتر یہ ہے کہ آدمی کوئی رائے ہی قائم نہ کرے۔ آدمی رائے قائم نہ کرنے کے لئے آزاد ہے۔ مگر رائے قائم کرتے ہی وہ قابل مواخذہ ہو جاتا ہے۔ اچھا گمان کرنا جائز ہے۔ اور برا گمان کرنا بلا شبہ ناجائز۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page