تمہید
Urdu book, p. 5
By Maulana Wahiduddin Khan
تمہید اسلام دین فطرت ہے۔ اسلام فطرت انسانی کا مظہر ہے۔ اسلام انسان کے تمام فکری اور روحانی تقاضوں کی تکمیل ہے۔ اسلام سب کے خدا کی طرف سے ہے اور وہ یکساں طور پر سب کے لیے آیا ہے۔ وہ رب العالمین کی پسند کا مظہر ہے جس کو بھیغب در رحمت کے ذریعہ انسانوں کے پاس بھیجا گیا ہے۔ خدا نے موجودہ کائنات بنائی اور اسی نے انسان کو اس زمین پر آباد کیا۔ اس نے انسان اور بقیہ کائنات کے لیے ایک ہی دین مقرر کیا، اس فرق کے ساتھ کہ بقیہ کائنات جس دین خداوندی پر مجبورانہ طور پر قائم ہے، اسی دین خداوندی پر انسان کو اختیارانہ طور پر قائم ہونا ہے۔ درخت زمین پر سیدھا کھڑا ہوتا ہے مگر اس کا سایہ زمین پر جھکا ہوا ہوتا ہے۔ یہ درخت کے لیے تواضع کا عمل ہے۔ اسی طرح انسان سے مطلوب ہے کہ وہ اپنی زندگی میں تواضع کا رویہ اختیار کرے۔ خلا میں بے شمار ستارے اور سیارے ہیں۔ سب کے سب مسلسل حرکت کر رہے ہیں مگر ان میں ٹکراؤ نہیں ہوتا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہر ستارہ اور سیارہ اپنے متعین مدار کے اندر گھومتا ہے۔ یہی روش انسان کو اس طرح اختیار کرنا ہے کہ ہر ایک اپنے اپنے دائرہ میں سرگرم ہو، کوئی انسان دوسرے انسان کے دائرہ میں داخل ہونے کی کوشش نہ کرے۔ دنیا میں یہ نظام ہے کہ درخت آکسیجن نکالتے ہیں جو زندہ حیوانات کے کام آتی ہے اور حیوانات کاربن ڈائی آکسائڈ نکالتے ہیں جس کو درخت لے لیتے ہیں۔ یہ کائنات میں خدا کا قائم کردہ نظام ہے۔ یہی طریقہ انسان سے بھی مطلوب ہے۔ انسانی سماج میں یہ ہونا چاہیے کہ ہر ایک دوسرے کے کام آئے۔ ہر ایک دوسرے کے لیے نفع بخش بننے کی کوشش کرے۔ پہاڑوں سے چشمے جاری ہوتے ہیں۔ وہ بہتے ہوئے بار بار چٹانوں سے گزرتے ہیں مگر کوئی چشمہ کبھی چٹان کو توڑنے کی کوشش نہیں کرتا بلکہ چٹان کے اطراف سے اپنا راستہ نکال کر آگے بڑھ جاتا ہے۔ یہی طریقہ انسان کو بھی اپنی سرگرمیوں میں اختیار کرنا ہے۔ وہ مسائل سے لڑنے کی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader