تمہید
Urdu book, p. 62
By Maulana Wahiduddin Khan
حقیقت کی دریافت قرآن کی سورہ نمبر ۳ میں ارشاد ہوا ہے کہ آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں، اور رات دن کے باری باری آنے میں عقل والوں کے لیے بہت نشانیاں ہیں۔ جو کھڑے اور بیٹھے اور اپنی کروٹوں پر اللہ کو یاد کرتے ہیں۔ اور آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں غور کرتے رہتے ہیں۔ وہ کہہ اٹھتے ہیں اے ہمارے رب تو نے یہ سب بے مقصد نہیں بنایا۔ تو پاک ہے۔ پس ہم کو آگ کے عذاب سے بچا۔ اے ہمارے رب تو نے جس کو آگ میں ڈالا اس کو تو نے واقعی رسوا کر دیا۔ اور ظالموں کا کوئی مددگار نہیں۔ اے ہمارے رب ہم نے ایک پکارنے والے کو سنا جو ایمان کی طرف پکار رہا تھا کہ اپنے رب پر ایمان لاؤ۔ پس ہم ایمان لائے۔ اے ہمارے رب ہمارے گناہ ہوں کو بخش دے اور ہماری برائیوں کو ہم سے دور کر دے اور ہمارا خاتمہ نیک لوگوں کے ساتھ کر۔ اے ہمارے رب تو نے جو وعدے اپنے رسولوں کی معرفت ہم سے کیے ہیں ان کو ہمارے ساتھ پورا کر اور قیامت کے دن ہم کو رسوائی میں نہ ڈال۔ بیشک تو اپنے وعدے کے خلاف کرنے والا نہیں ہے (آل عمران ۱۹۳-۱۹۰) انسان ایک ایسی دنیا میں ہے جہاں اس کے چاروں طرف بے شمار نشانیاں پھیلی ہوئی ہیں جو حقیقت کی طرف اشارہ کر رہی ہیں۔ جو لوگ ان نشانیوں پر غور کریں اور یکسو ہو کر اس کے پیغام کو سننے کی کوشش کریں وہ یقینی طور پر مخلوقات کی اس جلوہ گاہ میں اس کے خالق کو پالیں گے۔ کائنات کی معنویت کو دریافت کرنا کوئی سادہ بات نہیں۔ یہ مخلوق کا اپنے خالق کو دریافت کرنا ہے، یہ طالب کا اپنے مطلوب کو پالینا ہے۔ اس دریافت کا لازمی نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ آدمی اس کے بارے میں سنجیدہ ہو جاتا ہے، وہ اس کو اپنی عملی زندگی میں شامل کر لیتا ہے، وہ ان لوگوں کا ساتھی بن جاتا ہے جو اس کی طرح حقیقت کے طالب تھے اور اس کو دریافت کرکے اس کے اوپر چل پڑےے۔ حقیقت کی دریافت کوئی فلسفیانہ دریافت نہیں ہے، وہ اپنی ذمہ داریوں کی دریافت ہے۔ وہ اپنے آغاز اور انجام کی دریافت ہے۔ جو آدمی اس دریافت تک پہنچ جائے اس کا لازمی نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ خدا فراموشی کو چھوڑ کر خدا پرستی کی زندگی اختیار کر لیتا ہے، وہ جہنم کے راستوں میں بھٹکنے کے بجائے اس صراط مستقیم پر چل پڑتا ہے جو اس کو جنت کی طرف لے جانے والی ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader