تمہید
Urdu book, p. 63
By Maulana Wahiduddin Khan
روحانی زندگی قرآن کی سورہ نمبر۶ میں ارشاد ہوا ہے کہ کیا وہ انسان جو مردہ تھا پھر ہم نے اس کو زندگی دی اور ہم نے اس کو ایک روشنی دی کہ اس کے ساتھ وہ لوگوں میں چلتا ہے۔ وہ اس انسان کی طرح ہو سکتا ہے جو تاریکیوں میں پڑا ہے۔ اس سے نکلنے والا نہیں۔ اسی طرح منکروں کی نظر میں ان کے اعمال خوش نما بنا دیے گئے ہیں (الانعام (۱۲۳) ایک شخص وہ ہے جس کو حق نہیں ملایا حق اس کے سامنے آیا اور اس نے اس کو قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ ایسا آدمی گویا کہ ذہنی اور فکری اعتبار سے مُرا ہوا ہے۔ حق سے محرومی کا نتیجہ ہوا کہ اس کی اندرونی شخصیت صحیح رخ پر حرکت میں نہیں آئی۔ اس کے ذہن کو اس کی مطلوب فکری غذا نہیں ملی۔ اس کی روح کے اندر سچائی کو پانے کی جو طلب پیدائشی طور پر موجود تھی وہ اپنے مطلوب کو نہ پاسکی۔ ایسا انسان بظاہر جسمانی اعتبار سے زندہ ہو گا، مگر روحانی اعتبار سے وہ ایک مُرا ہوا انسان ہو گا۔ مادی خوراک سے محرومی جس طرح جسم کو بے جان کر دیتی ہے اسی طرح ایسے انسان کی اندرونی شخصیت بے جان حالت میں ہوگی۔ وہ جسمانی اعتبار سے زندہ انسان ہو گا لیکن روحانی اعتبار سے وہ ایک مُردہ انسان بنا ہوا ہو گا۔ اس کے برعکس جس آدمی نے حق کو پا لیا جس کا حال یہ ہوا کہ جب اس کے سامنے حق آیا تو اس نے کھلے ذہن کے ساتھ اس کو قبول کر لیا ایسے انسان کا اندرونی وجود اچانک زندہ اور متحرک ہو جائے گا۔ حق اس کی آنکھ کی روشنی بن جائے گا جس کے ذریعے وہ دنیا کے راستوں کو دیکھے۔ وہ اس کے پاؤں کی طاقت بن جائے گا جس کے ذریعے وہ سچائی کے راستے پر چلے۔ اس کے قول اور اس کے کردار میں حق کی جھلک دکھائی دے گی ۔ اس کا جینا سچائی کا جینا ہو گا اور اس کا مرنا بھی سچائی کا مرنا۔ حقیقت کو پايا ہوا انسان اور حقیقت سے محروم انسان کے درمیان موت اور حیات کا فرق ہے، ایک اگر مُردہ وجود ہے تو دوسرا پورے معنوں میں ایک زندہ وجود۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader