Urdu book · اسلام ایک تعارف

تمہید

Urdu book, p. 70

By Maulana Wahiduddin Khan

خدا کی نعمتیں قرآن کی سورہ نمبر ابر میں ارشاد ہوا ہے اللہ وہ ہے جس نے آسمان اور زمین بنائے اور آسمان سے پانی اتارا۔ پھر اس سے مختلف پھل نکالے تمہاری روزی کے لیے۔ اور کشتی کو تمہارے لیے مسخر کر دیا کہ سمندر میں اسی کے حکم سے چلے۔ اور اس نے دریاؤں کو تمہارے لیے مسخر کیا۔ اور اس نے سورج اور چاند کو تمہارے لیے مسخر کر دیا کہ برابر چلے جارہے ہیں۔ اور اس نے رات اور دن کو تمہارے لیے مسخر کر دیا اور اس نے تم کو ہر چیز میں سے دیا جو تم نے مانگا۔ اگر تم اللہ کی نعمتوں کو گنو تو تم گن نہیں سکتے۔ بیشک انسان بہت بے انصاف اور بڑا ناشکرا ہے (ابراہیم ۳۲-۳۷) موجودہ دنیا انتہائی حیرت ناک حد تک خدا کی گواہی دے رہی ہے۔ وسیع خلا میں ستاروں اور سیاروں کی گردش ، پانی کے ذریعہ زمین پر زندگی اور رزق کی فراہی ، خشکی اور تری اور فضا پر انسان کو یہ قدرت ہونا کہ وہ ان میں اپنی سواریاں دوڑائے ، دریاؤں اور پہاڑوں کے ذریعہ زمین کا انسان کے موافق ہو جانا ۔ سورج اور چاند کے ذریعہ موسموں کا اور رات دن کا انتظام ، سب کچھ اس سے زیادہ عظیم ہے کہ ان کو لفظوں میں بیان کیا جا سکے۔ انسان اور کائنات میں اتنی کامل مطابقت ہے کہ انسان کی ہر قابل قیاس یا ناقابل قیاس ضرورت پیشگی طور پر یہاں بافرات موجود ہے ۔ یہ تمام چیزیں اتنی زیادہ عجیب ہیں کہ آدمی کو ہلا دیں اور اس کو عبدیت کے جذبے سے سرشار کر دیں۔ اس کے باوجود ایسا کیوں نہیں ہوتا کہ کائنات کو دیکھ کر آدمی کے اندر استجاب کی کیفیت پیدا ہو۔ خالق کائنات کے تصور سے اس کے بدن کے رونگٹے کھڑے ہو جائیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ آدمی پیدا ہوتے ہی کائنات کو دیکھتا ہے۔ دیکھتے دیکھتے وہ اس کو ایک عام چیز معلوم ہونے لگتی ہے۔ اس میں اسے کوئی انوکھا پن نظر نہیں آتا۔ مزید یہ کہ اس دنیا میں آدمی کو جب کوئی چیز ملتی ہے تو وہ بظاہر اس کو اسباب کے تحت ملتی ہوئی نظر آتی ہے۔ اس بنا پر وہ سمجھ لیتا ہے کہ جو چیز اس کو ملی ہے وہ اس کی اپنی محنت اور صلاحیت کی بنا پر ملی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آدمی کے اندر دینے والے خدا کے لیے شکر کا جذبہ پیدا نہیں ہوتا۔ انسان کی یہی وہ غفلت ہے جس کو یہاں بے انصافی اور ناشکرگزاری سے تعبیر کیا گیا ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page