Urdu book · اسلام ایک تعارف

تمہید

Urdu book, p. 71

By Maulana Wahiduddin Khan

مخلص بندے قرآن کی سورہ نمبر ۱۵ میں وہ مکالمہ درج ہوا ہے جو انسان اول کی تخلیق کے وقت جنت اور ابلیس کے درمیان ہوا تھا۔ ابلیس اول دن ہی سے انسان کا دشمن بن گیا۔ چنانچہ اس نے چیلنج دیتے ہوئے کہا کہ اے میرے رب ، جیسا تو نے مجھ کو گمراہ کیا ہے۔ اسی طرح میں زمین میں ان کے لیے مزین کروں گا اور سب کو گمراہ کر دوں گا۔ سو ان کے جو تیرے چنے ہوئے (مخلص) بندے ہیں۔ اللہ نے فرمایا ، یہ ایک سیدھا راستہ ہے جو مجھ تک پہنچتا ہے۔ بے شک جو میرے بندے ہیں ان پر تیرا زور نہیں چلے گا۔ سو ان کے جو گمراہ ہوں میں سے تیری پیروی کریں۔ اور ان سب کے لیے جہنم کا وعدہ ہے (الحجر ۴۳ - ۴۰) دنیا میں انسان ہر لمحہ شیطان کی زد میں ہے۔ شیطان آدمی کے دماغ میں داخل ہو کر مسلسل اس کو بہکاتا رہتا ہے ۔ اس کا طریقہ تزئین ہے۔ یعنی برے کام کو اچھا بنا کر پیش کرنا ۔ غلط کام کے لیے خوش نما تاویل فراہم کرنا۔ یہ بے حد مشکل امتحان ہے۔ ابلیس کے اس فتنے سے صرف وہ لوگ بچیں گے جو خدا کے مخلص بندے ہوں، یعنی وہ چنے ہوئے لوگ جو خدا کی مدد سے اپنی فکری سطح کو اتنا زیادہ ترقی یافتہ بنالیں کہ وہ ابلیس کی تزئین کا توڑ کر سکیں۔ جب ابلیس کسی غلط کام کو خوب صورت الفاظ میں ان کے ذہن میں ڈالے تو وہ الفاظ کا پردہ پھاڑ کر حقیقت کو دیکھ سکیں، وہ ظاہری تزئین سے گزر کر باطنی حقیقت کو سمجھ لیں۔ حق کو قبول کرنے میں یا حق پر چلنے میں یہی شیطانی تزئین ہمیشہ رکاوٹ بنتی ہے۔ شیطان یہ کرتا ہے کہ وہ حق کو باطل کے روپ میں اور باطل کو حق کے روپ میں دکھاتا ہے۔ وہ ایسی خوشنما تاویلات آدمی کے ذہن میں ڈالتا ہے کہ وہ سچائی کی روش پر شبہ کرنے لگے اور جو روش غلط ہے اس کو درست مان لے۔ شیطان کی اس قسم کی تزئینات سے بچنا ذہنی بیداری کے بغیر ممکن نہیں۔ جو لوگ خدا کی مدد سے اپنے آپ کو اس طرح با شعور بنالیں وہ گویا خدا کے خاص بندے ہیں۔ اور ایسے ہی لوگ اپنے آپ کو شیطان کے بہکاوؤں سے محفوظ رکھنے میں کامیاب ہوں گے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page