تمہید
Urdu book, p. 94
By Maulana Wahiduddin Khan
دو راستے قرآن کی سورہ نمبر۷۶ میں ارشاد ہوا ہے کہ ـــ کبھی انسان پر زمانہ میں ایک وقت گزرا ہے کہ وہ کوئی قابل ذکر چیز نہ تھا۔ ہم نے انسان کو ایک مخلوط بوند سے پیدا کیا، ہم اس کو پلٹتے رہے۔ پھر ہم نے اس کو سننے والا، دیکھنے والا بنا دیا۔ ہم نے اس کو راہ سجھائی چاہے وہ شکر کرنے والا بنے یا انکار کرنے والا۔ ہم نے منکروں کے لیے زنجیریں اور طوق اور بھڑکتی آگ تیار کر رکھی ہے۔ نیک لوگ ایسے پیالے سے پئیں گے جس میں کافور کی آمیزش ہوگی، اس چشمہ سے خدا کے بندے پئیں گے۔ وہ اس کی شاخیں نکالیں گے۔ وہ لوگ واجبات کو پورا کرتے ہیں۔ اور ایسے دن سے ڈرتے ہیں جس کی سختی عام ہوگی۔ اور اس کی محبت پر کھانا کھلاتے ہیں۔ محتاج کو اور یتیم کو اور قیدی کو۔ ہم جو تم کو کھلاتے ہیں۔ تو خدا کی خوشی چاہنے کے لیے، ہم نہ تم سے بدل چاہتے ہیں اور نہ شکر گزاری۔ ہم اپنے رب کی طرف سے ایک سخت اور تلخ دن کا اندیشہ رکھتے ہیں۔ پس خدا نے ان کو اس دن کی سختی سے بچا لیا۔ اور ان کو تازگی اور خوشی عطا فرمائی اور ان کے صبر کے بدلہ میں ان کو جنت اور ریشمی لباس عطا کیا (الدهر ۱-۱۲) دنیا میں انسان کو آزاد پیدا کیا گیا۔ اور پھر اس کو راہ دکھا دی گئی۔ ناشکری کی راہ اور شکر گزار زندگی کی راہ۔ اب یہ انسان کے اپنے اوپر ہے کہ وہ دونوں میں سے کون سی راہ اختیار کرتا ہے۔ جو شخص ناشکری کا طریقہ اختیار کرے اس کے لیے آخرت میں دوزخ کا عذاب ہے۔ اور جو شخص شکر گزاری کا طریقہ اختیار کرے اس کے لیے جنت کی نعمتیں ۔ جو آدمی خدا کو پہچان لے، اسی کے ساتھ وہ تمام حقیقتوں کو بھی پہچان لیتا ہے۔ خدا کا علم اس کے اوپر دوسرے تمام علوم کے دروازے کھول دیتا ہے۔ وہ اگر ایک طرف خدا شناس بنتا ہے تو دوسری طرف وہ پورے معنوں میں حقیقت شناس بھی بن جاتا ہے۔ اس کی معرفت اس کو اس قابل بنا دیتی ہے کہ وہ خدا کے حقوق بھی ادا کرے اور اسی کے ساتھ دوسرے انسانوں کے حقوق بھی۔ فطرت اور شریعت میں حقیقت کے اعتبار سے کوئی فرق نہیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader