Urdu book · اسلام کا تعارف

اسلام کا تعارف

Urdu book, p. 9

By Maulana Wahiduddin Khan

نظامِ شمسی ہے جو بظاہر بہت بڑا معلوم ہوتا ہے۔ مگر کائنات کی وسعت کے مقابلے میں اس کی کوئی حیثیت نہیں۔ کائنات میں اتنے بڑے بڑے ستارے ہیں جن کے اوپر ہمارا پورا نظامِ شمسی رکھا جا سکتا ہے۔ اس بے انتہا وسیع اور عظیم کائنات میں ہماری زمین فضا میں اڑنے والے ایک ذرہ سے بھی زیادہ حقیر ہے۔ ہم ایک چھوٹے سے کیڑے کے مانند اس ذرہ سے چمٹے ہوئے ہیں اور خلا میں ایک کبھی نہ ختم ہونے والے سفر میں مصروف ہیں۔ یہ کائنات کے اندر ہماری حیثیت ہے۔ غور کیجیے، انسان کس درجہ حقیر ہے اور خارجی طاقتوں کے مقابلے میں کس قدر عاجز ہے۔ پھر ہماری حیثیت جب یہ ہے تو ہم خالقِ کائنات سے مدد طلب کرنے کے سوا اور کیا کر سکتے ہیں۔ جس طرح ایک بچے کی ساری کائنات اس کے ماں باپ ہوتے ہیں۔ اس کی زندگی، اس کی ضرورتوں کی تکمیل اور اس کے مستقبل کا انحصار بالکل اس کے والدین کے اوپر ہوتا ہے۔ اسی طرح بلکہ اس سے کہیں زیادہ انسان اپنے رب کا محتاج ہے۔ ہم خدا کی مدد اور اس کی رہنمائی کے بغیر اپنے لئے کسی چیز کا تصور نہیں کر سکتے۔ وہی ہمارا سہارا ہے اور اسی کی طرف ہمیں دوڑنا چاہئے۔ اس تفصیل سے یہ بات واضح ہو گئی کہ انسان خدا کی رہنمائی اور اس کی مدد کا محتاج ہے۔ خدا کی طرف سے انسان کی یہی حیثیت قرار پائی ہے اور خود انسان کے لئے اس کے سوا چارہ نہیں ہے کہ وہ خدا سے اپنے لئے مدد اور رہنمائی کی درخواست کرے۔ معرفت کا حصول یہاں پہنچ کر جب ہم گرد و پیش کی دنیا پر غور کرتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ کائنات کے خالق کی طرف سے اپنی مخلوقات کے لئے مدد اور رہنمائی کا ایک مستقل عمل جاری ہے۔ جس کو جس چیز کی ضرورت ہے اس کو وہ چیز پہنچائی جا رہی ہے۔ ایک معمولی بھڑ کی مثال لیجئے۔ بھڑ کا طریقہ ہے کہ وہ انڈے دینے سے پہلے زمین میں ایک گڈھا کھودتی ہے اور ایک ٹڈے کو قابو میں کر کے اس کو گڑھے میں رکھ دیتی ہے۔ ایسا کرتے وقت وہ نہایت صحت کے ساتھ ٹڈے کے اس خاص عصبی مقام پر ڈنک

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page