معرفت کا حصول
Urdu book, p. 10
By Maulana Wahiduddin Khan
مارتی ہے جس سے ٹنڈ امرتا نہیں صرف بے ہوش رہتا ہے اور تازہ گوشت کا ذخیرہ بن جاتا ہے لئی۔ بھڑ اب اس بے ہوش ٹنڈے کے ارد گرد انڈے دیتی ہے تاکہ انڈوں سے نکل کر بچے اس زندہ ٹنڈے کو دھیرے دھیرے کھاتے رہیں۔ کیوں کہ مردہ گوشت ان بچوں کے لئے مہلک ہے۔ اتنا انتظام کر لینے کے بعد بھڑ وہاں سے اڑ جاتی ہے اور پھر کبھی آکر اپنے بچوں کو نہیں دیکھتی۔ مگر اس کے باوجود بھڑ کا یہ بچہ جب بڑا ہوتا ہے تو وہ بھی ٹھیک اسی عمل کو دہراتا ہے۔ ساری بھڑیں اس کام کو زندگی میں ایک بار اور پہلی بار بالکل ٹھیک انجام دیتی ہیں۔ غور کیجئے کہ وہ کون ہے جو اس بھڑ کے بچے کو سکھاتا ہے کہ اپنی نسل کو باقی رکھنے کے لئے وہ بھی آئندہ وہی عمل کرے جو اس کے ماں باپ نے اس کے ساتھ کیا تھا۔ حالانکہ اپنے ماں باپ کے عمل کو اس نے کبھی نہیں دیکھا۔ دوسری مثال اس لمبی مچھلی کی ہے جسے انگریزی میں ایل (EII) کہتے ہیں۔ یہ عجیب و غریب جاندار اپنی زندگی کی جوانی میں ہر جگہ کے آبی مرکزوں اور ندیوں سے نکل نکل کر جزیرہ کر موڑہ کی طرف سمندر کی ایک گہری تہہ میں جاتے ہیں۔ یورپ کی ایلین اٹلانٹک میں تین ہزار میل کا راستہ طے کر کے یہاں پہنچتی ہیں۔ وہیں یہ سب مچھلیاں بچے دے کر مر جاتی ہیں۔ یہ بچے جب آنکھ کھولتے ہیں تو اپنے آپ کو ایک سنسان آبی مرکز میں پڑا ہوا پاتے ہیں۔ ان کے پاس بظاہر معلومات حاصل کرنے کا کوئی ذریعہ نہیں ہوتا۔ پھر بھی وہ وہاں سے لوٹ کر دوبارہ انہی کناروں پر آ لگتے ہیں جہاں سے ان کے والدین چلے گئے تھے۔ وہ آگے بڑھتے ہوئے اپنے ماں باپ والی ندیوں، جھیلوں اور آبی مرکزوں میں پہنچ جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کسی بھی آبی مرکز سے ایلین ہمیشہ کے لئے غائب نہیں ہو جاتی اور یہ سب کچھ اس لئے ہوتا ہے کہ امریکہ کی کوئی ایل یورپ میں نہیں ملتی اور نہ یورپ کی کوئی ایل امریکہ کے سمندروں میں پائی جاتی ہے۔ آمد و رفت کی یہ معلومات انھیں کہاں سے حاصل ہوتی ہے؟۔ یہ کام ’’وحی‘‘ کے ذریعہ ہوتا ہے۔ وحی، پیغام رسانی کے اس مخفی سلسلے کو کہتے ہیں جو خدا اور اس کی مخلوقات کے درمیان جاری ہے۔ ے اسی حیرت انگیز عمل کو دیکھ کر فلسفی برگسان نے کہا تھا کیا بھڑ نے کسی مدر سے میں ماہر عضویات سے تعلیم حاصل کی ہے‘‘۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader