خدا کا وجود
Urdu book, p. 3
By Maulana Wahiduddin Khan
آریہ سماج (سیوہارہ ضلع بجنور) نے اپنے چونٹھہ سالہ جشن جو بلی کے موقع پر آخری نومبر ۱۹۵۹ء میں ایک ہفتہ منایا۔ اس موقع پر ۲۹ نومبر کو عام قسم کی مذہبی کانفرنس بھی ہوئی جس میں مختلف مذاہب کے علماء نے شریک ہو کر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ یہ مقالہ اسی آخری نشست میں پڑھا گیا۔ اس کائنات کا ایک خدا ہے جو اس کا خالق و مالک ہے۔ خدا نے ایک خاص اسکیم کے تحت ہم کو پیدا کیا ہے جس کا علم وہ اپنے مخصوص اور منتخب بندوں کے ذریعہ ہم تک بھیجتا ہے جن کو ہم رسول کہتے ہیں۔ حضرت محمدؐ اس سلسلے کے آخری رسول ہیں اور اب تمام دنیا کو آپ ہی کی پیروی کرنی ہے۔ جو شخص آپ کی دعوت کو پائے اور پھر اس کو قبول نہ کرے وہ صرف آپ ہی کا انکار نہیں کرتا بلکہ در حقیقت خدا کے تمام نبیوں کا انکار کرتا ہے۔ ایسا شخص خدا کا وفادار نہیں بلکہ اس کا باغی ہے اور خدا کی رحمتوں میں اس کے لئے کوئی حصہ نہیں ہے۔ یہ مختصر طور پر اسلام کا تعارف ہے جس کی مجھے اس مضمون میں تشریح کرنی ہے۔ خدا کا وجود سب سے پہلے اس سوال کو لیجئے کہ اس کائنات کا ایک خدا ہے۔ بعض لوگ اس بات کو نہیں مانتے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ سارا کار خانہ محض ایک اتفاقی حادثہ کے طور پر وجود میں آ گیا ہے اور اپنے آپ چلا جا رہا ہے۔ ہکسلے کے الفاظ ہیںــــ چھ بندر ایک ٹائپ رائٹر لے کر بیٹھ جائیں اور اربوں اور کھر بوں سال تک ال ال ٹپ طریقے سے ان کو پیٹتے رہیں تو ہو سکتا ہے کہ ان کے سیاہ کئے ہوئے کاغذات کے ڈھیر میں کسی صفحہ پر شیکسپیئر کی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader