Urdu book · اسلام کا تعارف

خدا کا وجود

Urdu book, p. 4

By Maulana Wahiduddin Khan

ایک نظم نکل آئے۔ اسی طرح اربوں اور کھربوں سال تک مادے کے اندھے عمل کے دوران میں بالکل اتفاق سے یہ دنیا بن گئی ہے۔ یہ جواب جس نے صدیوں سے بہت سے لوگوں کو فریب میں مبتلا کر رکھا ہے۔ یہ دراصل کوئی جواب نہیں ہے۔ بلکہ محض چند الفاظ کا مجموعہ ہے، کیوں کہ اتفاق یا حادثہ بذات خود کوئی چیز نہیں ہے۔ پھر جو چیز خود اپنا وجود نہ رکھتی ہو وہ کسی دوسری چیز کو وجود میں لانے کا سبب کس طرح بن سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کائنات کی یہ تشریح کائنات کے اوپر بالکل چسپاں نہیں ہوتی۔ یہ محض ایک بے بنیاد دعویٰ ہے جو ذہنوں میں گڑھ لیا گیا ہے اور کائنات کی حقیقی ساخت سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ اس کے برعکس خدا کا تصور کائنات کے ساتھ بالکل ہم آہنگ ہو جاتا ہے۔ وہ خود کائنات کے اندر سے بول رہا ہے۔ کائنات اتنی پر حکمت اور اتنی منظم ہے کہ اس کا تصور نہیں کیا جا سکتا کہ وہ کسی اتفاقی حادثے کے طور پر وجود میں آگئی ہو۔ زمین پر جاندار چیزوں کی بقا کے لئے جو حالات ضروری ہیں وہ نہایت مکمل طور پر یہاں موجود ہیں۔ کیا محض اتفاق کے نتیجے میں اتنے عمدہ حالات پیدا ہو سکتے ہیں۔ زمین اپنے محور پر ایک ہزار میل فی گھنٹہ کی رفتار سے لٹو کی مانند گھومتی ہے۔ اگر زمین کی رفتار ایک سو میل فی گھنٹہ ہوتی تو ہمارے دن اور رات اب کے دن اور رات سے دس گنا زیادہ لمبے ہوتے۔ زمین کی تمام ہریالی اور ہماری بہترین فصلیں سو گھنٹے کی مسلسل دھوپ میں جھلس جاتیں اور جو بچ رہتیں وہ لمبی رات میں پالے کی نذر ہو جاتیں ۔ سورج جو ہماری زندگی کا سر چشمہ ہے، اپنی سطح پر بارہ ہزار ڈگری فارن ہائٹ سے دہک رہا ہے۔ یہ حرارت اتنی زیادہ ہے کہ بڑے بڑے پہاڑ بھی اس کے سامنے جل کر راکھ ہو جائیں گے مگر وہ ہماری زمین سے اتنے مناسب فاصلہ پر ہے کہ یہ دائی انگیٹھی، ہمیں ہماری ضرورت سے ذرہ بھر زیادہ گرمی نہ دے سکے۔ اگر سورج دگنے فاصلہ پر چلا جائے تو زمین پر اتنی سردی پیدا ہوگی کہ ہم سب لوگ جم کر برف ہو جائیں گے ۔ اور اگر وہ آدھے فاصلے پر آ جائے تو زمین پر اتنی حرارت پیدا ہوگی کہ تمام جاندار اور تمام پودے جل بھن کر خاک ہو جائیں گے۔ زمین کا کرہ فضا میں سیدھا کھڑا نہیں ہے۔ بلکہ ۲۳ درجہ کا زاویہ بناتا ہوا ایک طرف کو جھکا ہو؛

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page