Urdu book · اسلام کا تعارف

خدا کے ساتھ ہمارا تعلق

Urdu book, p. 7

By Maulana Wahiduddin Khan

بلند مقام سے معزول کر رہا ہے جو اس سے پہلے عالم فطرت کے تمام واقعات کا رہنما سمجھا جاتا تھا۔ قدیم سائنس نے بڑے وثوق سے اعلان کیا تھا کہ قدرت صرف ایک ہی راستہ اختیار کر سکتی ہے۔ جو سبب اور نتیجے کی مسلسل کڑیوں کے مطابق اس کے آغاز سے لے کر انجام تک معین ہو چکا ہے۔ مگر اب معلوم ہوا کہ یہ محض ناقص مطالعہ کا نتیجہ تھا۔ پہلے یہ کہا جاتا تھا کہ خدا کو اگر ماننا ہی ہے تو سبب اول کے طور پر اسے مان لو ورنہ آج کا ئنات کو خدا کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ اب معلوم ہوا کہ کائنات صرف حرکت اول کے لئے کسی محرک کی محتاج نہیں تھی بلکہ وہ ہر آن حرکت دیئے جانے کی محتاج ہے۔ کوانٹم نظریہ دوسرے لفظوں یہ بتاتا ہے کہ کائنات ایک خود چالو مشین نہیں ہے بلکہ وہ ایک ایسی مشین ہے جس کو ہر آن چلایا جا رہا ہے۔ ایک حی و قیوم ہستی کا مسلسل فیضان ہے جو اس کو باقی رکھے ہوئے ہے۔ اگر ایک لمحے کے لئے بھی وہ اپنا فیضان واپس لے لے تو ساری کائنات اس طرح ختم ہو جائے گی جیسے سنیما گھر میں بجلی کا سلسلہ ٹوٹنے سے پردہ سنیما میں کے واقعات غائب ہو جاتے ہیں۔ اور ناظرین کے سامنے ایک سفید کپڑے کے سوا اور کچھ نہیں رہتا۔ گویا اس دنیا کا ہر ذرہ اپنے وجود اور حرکت کے لئے ہر آن قادر مطلق سے اجازت طلب کرتا ہے۔ اس کے بغیر وہ اپنی ہستی کو قائم نہیں رکھ سکتا۔ کائنات کے ساتھ خدا کا یہ تعلق خود بتاتا ہے کہ انسان کے ساتھ اس کا تعلق کیا ہونا چاہئے۔ ظاہر ہے کہ جس نے ہمیں خلق کیا ہے، جو ہمارے لئے تمام موزوں ترین حالات کو مسلسل باقی رکھے ہوئے ہے اور ان کو ہمارے حق میں ہموار کرتا رہتا ہے۔ جو ہر آن ہماری پرورش کر رہا ہے اس کا ہمارے اوپر یہ لازمی حق ہے کہ ہم اپنے مقابلے میں اس کی برتر حیثیت کو تسلیم کریں اور اسی کے بندے بن جائیں۔ انسان جن قدروں سے واقف ہے ان میں سب سے نمایاں اور اہم ترین قدر یہ ہے کہ احسان کرنے والے کا احسان مانا جائے۔ محسن خواہ اپنی طرف سے نہ دبائے مگر جو احسان مند ہے وہ خود اس کے سامنے دب جاتا ہے۔ محسن کے آگے اس کو نظر اٹھانے کی ہمت نہیں ہوتی۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ خدا کا خدا ہونا خود ہی اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ ہم اس کی خدائی کو تسلیم کریں اور اس کی مرضی پوری کرنے کو اپنی زندگی کا مقصد بنائیں۔ بندے کی طرف سے خدا کی اطاعت کے لئے اس کے سوا کسی اور دلیل کی ضرورت نہیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page