اسلام کا تعارف
Urdu book, p. 6
By Maulana Wahiduddin Khan
گرد پیدا ہوتے ہیں وہ سب کے سب بدستور باقی رہتے ہیں۔ بعض لوگوں نے فلسفیانہ موشگافی کے ذریعہ یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ کائنات کوئی چیز ہی نہیں ہے۔ سب کچھ ہمارا وہم ہے۔ مگر ایک شخص جب یہ بات کہتا ہے تو ٹھیک اسی وقت وہ کائنات کے وجود کو تسلیم کر لیتا ہے۔ آخر یہ سوال ہی کیوں پیدا ہوا کہ کائنات کوئی چیز ہے یا نہیں۔ سوال پیدا ہونا خود ظاہر کرتا ہے کہ کوئی چیز ہے جس کے بارے میں سوال درپیش ہے اور کوئی ہے جس کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہو رہا ہے۔ اس طرح فلسفہ تشکیک بیک وقت انسان اور کائنات دونوں کو تسلیم کر لیتا ہے۔ خدا کے ساتھ ہمارا تعلق خدا کو ماننے کے بعد فوراً یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس کے ساتھ ہمارا تعلق کیا ہے۔ پچاس سال پہلے یہ خیال کیا جاتا تھا کہ اگر خدا کا کوئی وجود ہے تو اس سے ہمارا تعلق نہیں ہو سکتا۔ مگر جدید کوانٹم نظریہ کے ذریعہ خود سائنس نے اس کی تردید کر دی ہے۔ پہلے یہ سمجھا جاتا تھا کہ کائنات ایک مشین ہے جو ایک مرتبہ حرکت دینے کے بعد مسلسل چلی جارہی ہے۔ اس نظریہ پر سائنس دانوں کو اس قدر یقین تھا کہ انیسویں صدی کے آخر میں برلن کے پروفیسر مارکس پلانک (Max Planck) نے جب روشنی کے متعلق بعض ایسی تشریحات پیش کیں جو کائنات کے مشین ہونے کو غلط ثابت کر رہی تھیں تو اس پر سخت تنقیدیں ہونے لگیں اور اس کا مذاق اڑایا گیا۔ مگر اس نظریہ کو زبردست کامیابی ہوئی اور بالآخر وہ ترقی کر کے جدید کوانٹم نظریہ (quantum theory) کی صورت میں آج علم طبیعت کے اہم اصولوں میں شمار کیا جاتا ہے۔۱ پلانک کا نظریہ اپنی ابتدائی شکل میں یہ تھا کہ قدرت چھلانگ کے ذریعہ حرکت کرتی ہے۔ ۱۹۱ء میں آئین شائین نے اس بات کی وضاحت کی کہ پلانک کا نظریہ صرف عدم تسلسل (discontinuity) ثابت نہیں کرتا بلکہ زیادہ انقلاب انگیز نتائج کا حامل ہے، یہ اصول تعلیل کو اس کے ۱ تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو ماڈرن سائنٹفک تھات، صفحات ۱۲-۲۰

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader