نیت
Urdu book, p. 14
By Maulana Wahiduddin Khan
صحیح نیت یہ ہے کہ وہ کام خدا کے لیے کیا گیا ہو۔ اس کو کرنے سے خدا کی رضا مقصود ہو۔ آدمی جو کام کرے اس احساس کے ساتھ کرے کہ اس کا اجر اس کو خدا کے یہاں پانا ہے۔ اس کے برعکس بری نیت یہ ہے کہ آدمی بظاہر دین کا عمل کرے مگر وہ اس سے دنیا کا فائدہ لینا چاہتا ہو۔ وہ جو کام کرے اس لیے نہ کرے کہ لوگ اس کو دیکھ کر اس کی تعریف کریں گے ۔ لوگوں کے درمیان اس کو شہرت اور مقبولیت حاصل ہوگی۔ وہ لوگوں کے درمیان عزت کا مقام حاصل کرے گا۔ نیت کا تعلق آدمی کی اندرونی سوچ یا اندرونی کیفیات سے ہے۔ عام لوگ کسی انسان کے اندر کی سوچ یا اندر کی کیفیات کو نہیں جان سکتے۔ مگر خدا کو ہر انسان کے اندر کا حال پوری طرح معلوم ہے۔ وہ جانتا ہے آدمی کے دماغ میں کیا ہے اور اس کے اندر کس قسم کے جذبات ہیں۔ کسی کے عمل کے بارہ میں عام لوگ غلط نہی میں پڑ سکتے ہیں، مگر خدا کو ہر بات کا پورا علم حاصل ہے۔ وہ اپنے علم کے مطابق ہر ایک سے معاملہ کرے گا۔ اور ہر ایک کو وہی بدلہ دے گا جس کا وہ فی الواقع مستحق ہے۔ نیت کی حیثیت حقیقت اور معنویت کی ہے۔ جو چیز اصل حقیقت یا اپنی اصل معنویت کو کھودے وہ چیز بے کار ہو جاتی ہے۔ اسی طرح جو عمل بری نیت یا ناقص نیت کے ساتھ کیا جائے وہ بے قیمت ہے۔ اس کی کوئی اہمیت نہ انسانوں کی نظر میں ہو سکتی ہے اور نہ خدا کی نظر میں۔ کسی چیز کی قیمت اس وقت ہے جب کہ وہ خالص ہو اس میں کسی اور چیز کی ملاوٹ نہ ہو صحیح نیت کے ساتھ کیا ہوا عمل خالص عمل ہے صحیح نیت کے بغیر کیا ہوا عمل غیر خالص عمل۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader