اسلام کیا ہے
Urdu book, p. 13
By Maulana Wahiduddin Khan
اس دنیا میں جتنی چیزیں ہیں سب کی سب خدا کی محکوم ہیں۔ خلا کے ستارے اور سیارے کامل طور پر خدا کے حکم کے تحت گردش کرتے ہیں۔ درخت، دریا، پہاڑ اور اس قسم کی دوسری تمام چیزیں پیشگی طور پر خدا کے مقرر کیے ہوئے نقشہ پر قائم ہیں۔ اسی طرح عام حیوانات بھی وہی کرتے ہیں جو ان کی پیدائشی جبلت کے تحت ان کے لیے مقرر کر دیا گیا تھا۔ دنیا میں استثنائی طور پر صرف انسان ہی وہ مخلوق ہے جس کو اختیار اور آزادی کی نعمت عطا کی گئی ہے۔ اسی آزادی نے انسان کے اوپر دو مختلف قسم کے دروازے کھول دیے ہیں۔ اگر وہ آزادی پا کر گھمنڈ اور سرکشی اور بے قیدی میں مبتلا ہو جائے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ وہ آزمائش میں پورا نہیں اترا۔ اس کے بعد اس کے لیے وہی انجام مقدر ہے جو ان لوگوں کا ہوتا ہے جو کسی نازک آزمائش میں ناکام ہو گئے ہوں۔ دوسرے لوگ وہ ہیں جو اپنی ملی ہوئی آزادی کو صحیح دائرہ میں استعمال کریں۔ وہ مجبور نہ ہوتے ہوئے بھی اپنے آپ کو خدائی اصولوں کا پابند بنا لیں۔ یہ لوگ آزادی کی آزمائش میں کامیاب ہو گئے، ان کو خدا کی طرف سے وہ انعامات دیے جائیں گے جو کسی دوسری مخلوق کو نہ ملے ہوں۔ وہ خدا کے مقرب بندے قرار پائیں گے جو ابدی طور پر راحت اور آرام میں رہیں گے۔ ان کو وہ خوشیاں ملیں گی جو کبھی ختم نہ ہوں۔ نیت اسلام میں سب سے زیادہ اہم چیز نیت ہے۔ کوئی عمل محض اپنے ظاہر کی بنا پر خدا کے یہاں قابل قبول نہیں ہوتا۔ خدا صرف اس عمل کو قبول کرتا ہے جس کو کرنے والے نے صحیح نیت سے کیا ہو۔ بری نیت کے ساتھ کیے ہوئے عمل کو خدا رد کر دیتا ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader