Urdu book · اسلام کیا ہے

اسلام کیا ہے

Urdu book, p. 17

By Maulana Wahiduddin Khan

جذبات کو ختم کر دیتی ہے ۔ وہ اتنا زیادہ پاللیتا ہے کہ اس کے بعد کوئی اور چیز پانے کے لیے باقی نہیں رہتی ۔ یہی وہ لوگ ہیں جن کے مجموعہ سے وہ سماج بنتا ہے جو سورج کی طرح چمکے اور باغ کے روپ میں لہلہائے۔ تقویٰ تقویٰ کے معنی ہیں پرہیزگاری۔ یعنی دنیا میں احتیاط اور پرہیز کے ساتھ زندگی گزارنا۔ محتاط زندگی کا نام متقیانہ زندگی ہے۔ اور غیر محتاط زندگی کا نام غیر متقیانہ زندگی۔ حضرت عمر فاروق رض نے ایک صحابی سے پوچھا کہ تقویٰ کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ اے امیرالمومنین کیا آپ کسی ایسے راستے سے گزرے ہیں جس کے دونوں طرف جھاڑیاں ہوں۔ صحابی نے دوبارہ پوچھا کہ ایسے موقع پر آپ نے کیا کیا۔ انھوں نے جواب دیا کہ میں نے اپنے دامن سمیٹ لیے اور اپنے کو اس سے بچاتا ہوا گزر گیا۔ صحابی نے کہا کہ اسی کا نام تقویٰ ہے۔ موجودہ دنیا امتحان کی دنیا ہے۔ یہاں انسان کی آزمائش کے لیے مختلف قسم کے کانٹے بکھیر دیے گئے ہیں۔ کہیں منفی جذبات کا طوفان ہے۔ کہیں غیر سنجیدہ لوگوں کے چھیڑے ہوئے مسائل ہیں۔ کہیں دنیا کی کشش اپنی طرف کھینچ لینا چاہتی ہے۔ کہیں ایسے ناخوش گوار اسباب ہیں جو آدمی کے ذہن کو درہم برہم کر کے اس کو نیکی کے راستہ سے ہٹا دیں۔ یہ تمام چیزیں گویا کہ زندگی کے راستہ کے دونوں طرف کھڑی ہوئی کانٹے دار جھاڑیاں ہیں۔ ہر لمحہ یہ اندیشہ ہے کہ انسان کا دامن ان سے الجھ جائے۔ اور پھر آگے بڑھنے کے بجائے وہ انھیں چیزوں میں پھنس کر رہ جائے۔ ایسی حالت میں عقل مند وہ ہے جو دنیا کا راستہ اس طرح طے کرے کہ وہ اپنے دامن کو

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page