Urdu book · اسلام کیا ہے

اسلام کیا ہے

Urdu book, p. 18

By Maulana Wahiduddin Khan

سمیٹے ہوئے ہو۔ وہ ناموافق چیزوں سے الجھنے کے بجائے ان سے اعتراض کرتے ہوئے آگے بڑھتا رہے۔ ہر حال میں اس کا ذہن یہ ہو کہ اس کو اپنے آپ کو سنبھالنا ہے۔ اس کو بچاؤ کا طریقہ اختیار کرنا ہے نہ کہ الجھاؤ کا طریقہ۔ انسان صحیح فطرت پر پیدا کیا گیا ہے۔ کوئی چیز رکاوٹ نہ بنے تو ہر انسان اپنے آپ صحیح رخ پر اپنا سفر طے کرے گا۔ اس لیے اصل اہتمام کی بات یہ ہے کہ آدمی غیر فطری رکاوٹوں کو اپنے لیے رکاوٹ نہ بننے دے۔ اس کے بعد وہ خود اپنی فطرت کے زور پر صحیح رخ اختیار کرے گا یہاں تک کہ وہ اپنے رب سے جا ملے۔ شکر شکر یہ ہے کہ آدمی خدا کی نعمتوں کا اعتراف کرے۔ یہ اعتراف اصلاً دل میں پیدا ہوتا ہے ۔ اور پھر وہ الفاظ کی صورت میں آدمی کی زبان پر آجاتا ہے۔ انسان کو خدا نے بہترین جسم اور دماغ کے ساتھ پیدا کیا۔ اس کی ضرورت کی تمام چیزیں افراط کے ساتھ مہیا کیں۔ زمین و آسمان کی تمام چیزوں کو انسان کی خدمت میں لگا دیا۔ زمین پر زندگی گزارنے یا تمدن کی تعمیر کرنے کے لیے جو جو چیزیں مطلوب تھیں وہ سب وافر مقدار میں یہاں مہیا کردیں۔ انسان ہر لمحہ ان نعمتوں کا تجربہ کرتا ہے۔ اس لیے انسان پر لازم ہے کہ وہ ہر لمحہ خدا کی نعمتوں پر شکر کرے۔ اس کا قلب خدا کی نعمتوں کے احساس سے سرشار رہے۔ شکر کی اصل حقیقت اعتراف ہے جس چیز کو انسان کے سلسلہ میں اعتراف کہا جاتا ہے اسی کا نام خدا کی نسبت سے شکر ہے۔ اعتراف کا لفظ انسان کے مقابلہ میں بولا جاتا ہے اور شکر کا لفظ خدا کے مقابلہ میں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page