روزہ
Urdu book, p. 23
By Maulana Wahiduddin Khan
زکٰوة زکٰوة سے مراد وہ متعین رقم ہے جو ایک مال والا آدمی اپنے مال میں سے سال کے آخر میں نکالتا ہے۔ اس طرح وہ اپنے کمائے ہوئے مال کو پاک کرتا ہے۔ ایک جزئی حصہ کو خدا کی راہ میں دے کر بقیہ حصہ کو وہ اپنے لیے جائز طور پر قابل استعمال بنا لیتا ہے۔ اپنی کمائی میں سے زکٰوة کی رقم نکالنا اس بات کا عملی اعتراف ہے کہ اصل دینے والا خدا ہے۔ جب دینے والا خدا ہے تو بندے کو چاہیے کہ اس کے دیے ہوئے میں سے خدا کی راہ میں خرچ کرے۔ زکٰوة کا قانون یہ ہے کہ مال والوں سے لے کر اس کو بے مال والوں میں دینا۔ یہ دولت کی گردش میں پیدا ہونے والی نابرابری کو دوبارہ برابر کرنے کا ایک طریقہ ہے۔ اس طرح مال والوں کو یاد دلایا جاتا ہے کہ تمہارے اوپر ان لوگوں کا مالی حق ہے جن کو تقسیم میں کم حصہ ملا یا سرے سے کچھ نہیں ملا۔ زکٰوة کا تعلق اخلاقیات سے بھی جڑا ہوا ہے۔ زکٰوة ایک طرف دینے والے کے اندر سے بخل اور خود غرضی کے جذبات کو نکالتی ہے، وہ دینے والے کے دل میں فیاضی اور انسان دوستی کی روح پیدا کرتی ہے۔ دوسری طرف پانے والے کے لیے زکٰوة کا فائدہ یہ ہے کہ دوسروں کو وہ اپنا بھائی اور غم گسار سمجھنے لگے۔ دوسروں کے بارے میں اس کے دل میں حسد کے جذبات نہ ابھریں۔ بلکہ اس کے بجائے اس کے دل میں دوسروں کے لیے محبت کے جذبات پیدا ہوں۔ یہ زکٰوة چونکہ اللہ کی راہ میں نکالی جاتی ہے اسی لیے وہ دوسری عبادتوں کی طرح ایک عبادت ہے۔ بظاہر وہ انسانوں کے درمیان تقسیم کی جاتی ہے، مگر اپنی حقیقت کے اعتبار سے وہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader