اسلام کیا ہے
Urdu book, p. 27
By Maulana Wahiduddin Khan
اس مسئلہ کا واحد حل صبر ہے۔ صبر کا مطلب یہ ہے کہ آدمی کو جب کسی کڑوے تجربہ سے سابقہ پیش آئے تو وہ بھڑک اٹھنے کے بجائے برداشت کا طریقہ اختیار کرے۔ وہ جھٹکے کو سہتے ہوئے سچائی کے راستہ پر آگے بڑھ جائے۔ یہ صبر ایک طرف باہر کی دنیا میں پیش آنے والے مسائل کا عملی حل ہے۔ دوسری طرف وہ آدمی کے لیے اپنی شخصیت کی تعمیر کا ذریعہ ہے۔ صبر نہ کرنے والے کی شخصیت منفی رجحانات کے درمیان پرورش پاتی ہے، اور جو آدمی صبر کر لے اس کی شخصیت مثبت رجحانات کے درمیان پرورش پانے لگتی ہے۔ صبر پسپائی نہیں ہے۔ صبر کا مطلب جوش والے راستہ کو چھوڑ کر ہوش والے راستہ کی طرف اقدام کرنا ہے۔ صبر یہ ہے کہ آدمی نازک مواقع پر اپنے جذبات کو تھامے۔ وہ اپنی عقل کو استعمال کر کے زیادہ مفید سمت میں اپنے عمل کا میدان تلاش کرلے۔ موجودہ دنیا اس ڈھنگ پر بنی ہے کہ یہاں ہر شخص کو لازماً خوش گوار باتوں سے سابقہ پیش آتا ہے۔ نا قابل مشاہدہ مناظر اس کے سامنے آتے ہیں۔ اس کو نا قابل سماعت آوازیں سُننی پڑتی ہیں۔ ایسی حالت میں الجھاؤ کا طریقہ اختیار کرنے کا نام بے صبری ہے اور اعراض کا طریقہ اختیار کرنے کا نام صبر۔ موجودہ دنیا میں کامیابی صرف ان لوگوں کے لیے مقدر ہے جو ناخوش گوار مواقع پر صبر کا طریقہ اختیار کریں۔ سچ بولنا مومن ایک سچا انسان ہوتا ہے۔ وہ ہمیشہ سچ بولتا ہے۔ وہ ہر معاملہ میں وہی بات کہتا ہے جو واقعہ کے مطابق ہو۔ مومن اس کا تحمل نہیں کر سکتا کہ وہ جھوٹ بولے اور جو چیز سچ ہے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader