اخلاق
Urdu book, p. 26
By Maulana Wahiduddin Khan
اخلاق کا یہ معیار انتہائی سادہ اور فطری ہے۔ یہ اتنا سادہ ہے کہ ہر آدمی اس کو جان سکتا ہے خواہ عالم ہو یا جاہل، حتیٰ کہ ایک اندھا یا معذور آدمی بھی نہایت آسانی کے ساتھ یہ سمجھ سکتا ہے کہ کیا چیز اس کے لیے پسندیدہ ہے اور کیا چیز ناپسندیدہ، اس حدیث نے انسانی اخلاق کا ایسا معیار دے دیا کہ جس کو سمجھنے سے کوئی شخص بھی عاجز نہیں ہو سکتا اس طرح اسلام نے ہر آدمی کو اس کے اپنے ذاتی تجربہ کی روشنی میں یہ بتا دیا کہ وہ لوگوں سے معاملہ کرنے میں کس قسم کا سلوک کرے اور کس قسم کا سلوک نہ کرے۔ حدیث میں ہے کہ لوگوں میں سب سے اچھا وہ ہے جس کا اخلاق سب سے اچھا ہو (أَحْسَنُهُمْ خُلُقًا) مسند احمد، حدیث نمبر 18456۔ اس کے مطابق اچھا انسان بننا کوئی پر اسرار معاملہ نہیں، اس کا سادہ فارمولا یہ ہے کہ آدمی اپنے آپ کو دوہرے معیار سے بچالے۔ ایسا کرنے کے بعد وہ اپنے آپ اعلیٰ انسانی اخلاق کا مالک بن جائے گا۔ صبر صبر کا مطلب ہے رکنا، اپنے آپ کو تھامنا۔ انسان کا مقصد یہ ہے کہ وہ اونچے آدرشوں کے مطابق دنیا میں زندگی گزارے۔ مگر دنیا میں قدم قدم پر ایسی ناپسندیدہ باتیں سامنے آتی ہیں جو آدمی کو بھڑکادیں، جو آدمی کے نشانہ کو اصل مقصد سے ہٹا کر دوسری طرف کردیں۔ ایسی حالت میں آدمی اگر ایسا کرے کہ وہ ہر بھڑکنے والی بات پر بھڑک اٹھے، وہ ہر ناموافق چیز سے الجھ جائے تو وہ اپنے مقصد کی طرف اپنا سفر جاری رکھنے میں کامیاب نہیں ہو گا۔ وہ غیر متعلق چیزوں میں الجھ کر رہ جائے گا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader