Urdu book · اسلام کیا ہے

اسلام کیا ہے

Urdu book, p. 32

By Maulana Wahiduddin Khan

ہے۔ ایسا انسان عین مزاج کے مطابق دوسروں کو محبت کی نظر سے دیکھنے لگتا ہے۔ وہ دوسروں سے کسی چیز کا امیدوار نہیں ہوتا اس لیے دوسرے اگراِس سے اختلاف رکھیں یا اس کے ساتھ اچھا سلوک نہ کریں تب بھی وہ دوسروں کا خیر خواہ بنا رہتا ہے۔ تب بھی وہ دوسروں کی رعایت کرتا ہے۔ تب بھی وہ دوسروں کے ساتھ اپنے روادارانہ سلوک کو باقی رکھتا ہے۔ رواداری یہ ہے کہ آدمی ہر حال میں دوسرے کی عزت کرے خواہ وہ اس کے موافق ہو یا اس کے خلاف۔ وہ ہر حال میں دوسرے کو اعلیٰ انسانی درجہ دے خواہ وہ اس کا اپنا ہو یا غیر۔ وہ دوسرے کے معاملہ کو ہر حال میں ہمدردی کا معاملہ سمجھے۔ خواہ دوسرے کی طرف سے بظاہر غیر ہمدردانہ سلوک کا اظہار کیوں نہ ہوا ہو۔ رواداری کا مطلب دراصل دوسروں کی رعایت کرنا ہے۔ اجتماعی زندگی میں لازمی طور پر ایک اور دوسرے کے درمیان اختلافات پیش آتے ہیں۔ مذہب، کلچر، رواج اور ذاتی ذوق کا فرق ہر سماج میں باقی رہتا ہے۔ ایسی حالت میں اعلیٰ انسانی طریقہ یہ ہے کہ آدمی اپنے اصول پر قائم رہتے ہوئے دوسرے کے ساتھ رعایت اور توسیع کا طریقہ اختیار کرے ۔ وہ اپنی ذات کے معاملہ میں اصول پسند ہو مگر دوسرے کے معاملہ میں روادار۔ وہ اپنے آپ کو اپنے معیار کی روشنی میں جانچے۔ مگر جب دوسروں کا معاملہ ہو تو وہ رواداری اور وسعتِ ظرف کا طریقہ اختیار کرے۔ یہ رواداری انسانی شرافت کا لازمی تقاضا ہے۔ اسلام آدمی کے اندر یہی اعلیٰ شرافت پیدا کرتا ہے۔ اعراض اسلام کا ایک اہم معاشرتی اصول (اوائڈنس) ہے۔ یعنی شکایت اور اختلاف کے موقع پر ٹکراؤ سے پرہیز کرنا۔ اشتعال کے موقع پر ردِ عمل کا طریقہ اختیار نہ کرتے ہوئے اپنے آپ کو مثبت رویہ پر قائم رکھنا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page