Urdu book · اسلام کیا ہے

اسلام کیا ہے

Urdu book, p. 35

By Maulana Wahiduddin Khan

اختلاف پیش آنا برا نہیں، برا یہ ہے کہ اختلاف پیش آنے کے بعد آدمی امتحان میں پورا نہ اترے۔ اختلاف کے وقت تقویٰ کی حد میں رہنا عظیم اسلام عمل ہے، اور اختلاف کے وقت تقویٰ کی حد سے نکل جانا انتہائی سنگین قسم کا غیر اسلامی عمل۔ پڑوسی پڑوسی کسی انسان کا سب سے قریبی ساتھی ہے۔ گھر کے افراد کے بعد کسی انسان کا سابقہ سب سے پہلے جن لوگوں سے پیش آتا ہے۔ وہ اس کے پڑوسی ہیں۔ پڑوسی کو خوش رکھنا، اس سے اچھا تعلق قائم کرنا، خدا پرستانہ زندگی کا ایک اہم پہلو ہے۔ پڑوسی خواہ اپنے مذہب کا ہو یا غیر مذہب کا، خواہ اپنی قوم کا ہو یا دوسری قوم کا، وہ ہر حال میں قابل لحاظ ہے۔ ہر حال میں اس کا وہ حق ادا کیا جائے گا جو شریعت اور انسانیت کا تقاضا ہے۔ حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ خدا کی قسم وہ مومن نہیں ہے، خدا کی قسم وہ مومن نہیں ہے، خدا کی قسم وہ مومن نہیں ہے جس کی برائیوں سے اس کا پڑوسی امن میں نہ ہو (الَّذِي لَا يَأْمَنُ جَارُهُ بَوَائِقَهُ) صحیح البخاری، حدیث نمبر 6016۔ اس حدیث کے مطابق، کوئی مسلمان اگر اپنے پڑوسی کو ستائے وہ اس طرح رہے کہ اس کے پڑوسی کو اس سے تکلیف پہنچے۔ وہ اپنے پڑوسی کے لیے دلآزاری کا سبب بن جائے تو ایسے مسلمان کا ایمان و اسلام ہی مشتبہ ہو جائے گا۔ کسی آدمی کی انسانیت اور اس کے دینی جذبہ کی پہلی کسوٹی اس کا پڑوسی ہے۔ پڑوسی اس بات کی پہچان ہے کہ آدمی کے اندر انسانی جذبہ ہے یا نہیں اور یہ کہ وہ اسلامی احکام کے بارہ میں حساس ہے یا غیر حساس۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page