پڑوسی
Urdu book, p. 36
By Maulana Wahiduddin Khan
کسی آدمی کا پڑوسی اس سے خوش ہو تو سمجھ لینا چاہیے کہ وہ آدمی صحیح آدمی ہے۔ اور اگر اس سے اس کا پڑوسی ناخوش ہو تو یہ اس بات کا ثبوت ہوگا کہ وہ آدمی صحیح نہیں۔ پڑوسی کے سلسلہ میں شریعت کے جو احکام ہیں اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ مومن کو چاہیے کہ وہ اپنے پڑوسی کی یک طرفہ طور پر رعایت کرے۔ وہ پڑوسی کے رویہ کو نظر انداز کرتے ہوئے اس کے ساتھ حسن سلوک کی کوشش کرے ۔ اچھا پڑوسی بننا خود آدمی کے اچھے انسان ہونے کا ثبوت ہے۔ ایسے ہی انسان کو خدا اپنی رحمتوں میں حصہ دار بنائے گا۔ حقوق العباد مومن پر ایک ذمہ داری وہ ہے جو خدا کی طرف سے اس پر عائد ہوتی ہے۔ اس کو حق اللہ کہا جاتا ہے۔ یعنی اللہ کو اس کی تمام صفات کمال کے ساتھ ماننا، اس کی عبادت کرنا۔ اس کے آگے اپنے آپ کو جوابدہ سمجھنا۔ اپنے آپ کو اس پر راضی کرنا کہ جب بھی خدا کا کوئی مطالبہ سامنے آئے گا تو وہ اس کو فورا مان لے گا اور دل کی آمادگی کے ساتھ اس کی تعمیل کرے گا۔ مومن کی دوسری ذمہ داری وہ ہے جس کو حقوق العباد کہا جاتا ہے، یعنی بندوں کے حقوق۔ یہ وہ ذمہ داری ہے جو اس کے اوپر دوسرے انسانوں کی نسبت سے عائد ہوتی ہے۔ ہر مرد یا عورت جو اس کا رشتہ دار ہو یا جو اس کا پڑوسی ہو یا جو اس کا ہم وطن ہو یا اس کا معاملاتی شریک ہو۔ ہر ایک کا اس کے اوپر کچھ حق ہے۔ ان حقوق کو ادا کرنا مومن کی لازمی ذمہ داری ہے۔ ان حقوق کی ادائیگی کے بغیر وہ خدا کی نصرت کا مستحق نہیں بن سکتا۔ حقوق العباد سے کیا مراد ہے۔ اس سے مراد یہ ہے کہ جب بھی اور جہاں بھی ایک

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader