اسلام کیا ہے
Urdu book, p. 37
By Maulana Wahiduddin Khan
مومن کا سابقہ دوسرے انسانوں کے ساتھ پیش آئے تو وہ اس کے ساتھ وہی سلوک کرے جو اسلامی تقاضے کے مطابق ہو، وہ اس کے ساتھ کوئی ایسا سلوک نہ کرے جو اسلام کے معیار پر پورا نہ اترتا ہو۔ مثلاً دوسرے کا احترام کرنا اور اس کو کبھی بے عزت نہ کرنا۔ دوسرے کو نفع پہنچانا۔ اور اگر نفع پہنچانا ممکن نہ ہو تو کم از کم اپنے نقصان سے اس کو بچانا۔ دوسروں سے کیے ہوئے عہد و پیمان کو پورا کرنا اور کبھی اس کی خلاف ورزی نہ کرنا۔ دوسرے کے مال و جائیداد پر ناجائز قبضہ کی کوشش نہ کرنا۔ دوسرے کے ساتھ ہر حال میں انصاف کرنا اور کبھی بے انصافی کا معاملہ نہ کرنا۔ ہر ایک کے ساتھ حسنِ ظن کا معاملہ کرنا اور کسی کے خلاف بلا دلیل بدگمانی میں مبتلا نہ ہونا۔ ہر ایک کو اس کے مفاد کے مطابق خیر خواہی کا مشورہ دینا اور کبھی کسی کو برا مشورہ نہ دینا، وغیرہ وغیرہ۔ ہر آدمی دوسرے کے بارہ میں اپنی انسانی ذمہ داریوں کو ادا کرے۔ اسی کا نام حقوق العباد ہے۔ تصورِ انسان انسان خدا کا بندہ ہے۔ انسان کو خدا نے ایک منصوبہ کے تحت پیدا کیا ہے۔ وہ یہ کہ دنیا میں ایک عرصہ تک رکھ کر اسے جانچے۔ پھر ان میں سے جو انسان جانچ میں پورا اترے اس کو قبولیت اور انعام دیا جائے ۔ اور جو لوگ اس جانچ میں پورے نہ اتریں ان کو رد کر دیا جائے۔ اس جانچ کی مصلحت کی بنا پر دنیا کی زندگی میں انسان کو آزادی دی گئی ہے۔ یہاں انسان کو جو کچھ بھی ملتا ہے وہ اس کا حق نہیں ہے، وہ صرف اس کے امتحان کا پرچہ ہے۔ ہر

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader