Urdu book · اسلام کیا ہے

امن پسندی

Urdu book, p. 44

By Maulana Wahiduddin Khan

امن پسندی مومن ایک امن پسند انسان ہوتا ہے۔ ایمان اور امن پسندی اتنا زیادہ ایک دوسرے سے ملے ہوئے ہیں کہ مومن ہر حال میں امن کو برقرار رکھنے کی کوشش کرتا ہے۔ وہ ہر دوسری چیز کو کھونا گوارا کر لیتا ہے ۔ مگر وہ امن کو کھونا گوارا نہیں کرتا۔ مومن موجودہ دنیا میں جو زندگی گزارنا چاہتا ہے وہ صرف امن کے حالات ہی میں گزاری جاسکتی ہے۔ امن کی حالت مومن کے لیے موافق ماحول فراہم کرتی ہے اور بے امنی کی حالت مومن کے لیے مخالف ماحول کی حیثیت رکھتی ہے۔ امن ہمیشہ ایک قربانی چاہتا ہے۔ وہ قربانی یہ کہ دوسری طرف سے بدامنی کے اسباب پیدا کیے جائیں تب بھی اس کو نظر انداز کرتے ہوئے امن کی حالت کو برقرار رکھا جائے۔ مومن ہمیشہ اس قربانی کو دینے کے لیے تیار رہتا ہے۔ وہ ہر نقصان اور زیادتی کو برداشت کرتا ہے تا کہ امن کی حالت نہ ٹوٹے، تا کہ امن کا ماحول مسلسل طور پر قائم رہے۔ مومن اندر سے باہر تک ایک تعمیر پسند انسان ہوتا ہے۔ اس کی تعمیری سرگرمیاں صرف امن کی حالت میں جاری رہ سکتی ہیں۔ اس لیے وہ ہر قیمت دے کر امن کو برقرار رکھتا ہے تا کہ اس کی تعمیری سرگرمیاں بلا روک ٹوک جاری رہیں۔ مومن فطرت کے باغ کا ایک پھول ہے۔ پھول گرم ہوا میں جھلس جاتا ہے اور ٹھنڈی ہوا میں اپنے دل کش وجود کو باقی رکھتا ہے۔ یہی حال مومن کا ہے۔ امن مومن کی لازمی ضرورت ہے۔ امن مومن کی زندگی ہے۔ مومن حرص کی حد تک امن کا خواہشمند ہوتا ہے تا کہ اس کے انسانی درخت پر ایمان کا پھول کھلے اور کسی رکاوٹ کے بغیر فطرت کی فضا میں ظاہر ہو کر اپنی بہاریں دکھا سکے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page