عزتِ نفس
Urdu book, p. 50
By Maulana Wahiduddin Khan
عزّت نفس عزّت نفس اور کبر نفس میں اتنا کم فرق ہے کہ یہ طے کرنا تقریباً ناممکن ہے کہ کہاں عزّت نفس کی حد ختم ہوتی ہے اور کہاں سے کبر نفس کی حد شروع ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام میں عزّت نفس کو کوئی درجہ نہیں دیا گیا ہے۔ اکثر حالات میں عزّت نفس دراصل کبر نفس ہی کا دوسرا نام ہوتا ہے۔ گہرائی کے ساتھ دیکھا جائے تو معلوم ہوگا کہ عزّت نفس سرے سے کوئی پسندیدہ چیز نہیں۔ عزّت نفس کی حقیقت اکثر حالات میں اس کے سوا کچھ نہیں کہ وہ کبر نفس ہی کا ایک خوب صورت نام ہوتا ہے۔ اسلام میں اصل قابل قدر چیز عزّت نفس نہیں بلکہ کسر نفس ہے۔ اسلام میں اعلیٰ اخلاقیات کا معیار تواضع ہے۔ دلیل کے آگے جھک جانا، اپنی غلطی کو مان لینا۔ اکڑ سے مکمل طور پر خالی ہونا، یہ مومن کی صفات ہیں، اور ان صفات کے ساتھ عزّت نفس کا کوئی جوڑ نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ عزّت نفس کا مزاج آدمی کے لیے تواضع، اعتراف اور علم میں رکاوٹ بن جاتا ہے، جبکہ اسلام کی اعلیٰ اخلاقی قدر یہی ہے۔ جب دو آدمیوں یا دو گروپ میں نزاع ہو تو نزاع بہت جلد بڑھ کر وقار کا سوال بن جاتی ہے۔ اور جب کسی مسئلہ میں وقار کی صورت پیدا ہو جائے تو اپنے موقف سے ہٹنا آدمی کو بے عزتی معلوم ہونے لگتا ہے۔ چنانچہ اپنے عزّت و وقار کو بچانے کے نام پر وہ اپنے موقف پر اکڑ جاتا ہے۔ اسی اکڑ یا ضد کا خوب صورت نام عزّت نفس ہے۔ صحیح اسلامی طریقہ یہ ہے کہ نزاع کو کسی بھی حال میں وقار کا سوال نہ بنایا جائے۔ بلکہ صلح جوئی کے ذہن کے تحت اس کو رفع کرنے کی کوشش کی جائے۔ اس طرح کے معاملات میں جھکنا ہی اسلام کا مطلوب ہے نہ کہ ضد میں پڑ کر اپنے موقف پر اکڑ جانا اور یہ کہہ کر اپنے کو

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader