مال
Urdu book, p. 54
By Maulana Wahiduddin Khan
آدمی اپنا سب سے بڑا کام سمجھ لے تو ایسا مال ایک مصیبت ہے، وہ آدمی کو دنیا میں بھی تباہ کرے گا اور آخرت میں بھی۔ انسان کو دنیا میں ایک مدت تک جینا ہے۔ اس لیے اس کو کچھ مادی سامان درکار ہیں جو اس کے لیے جینے کا سہارا بن سکیں ۔ یہ سامان مال کے ذریعہ حاصل ہوتا ہے۔ اس لیے کمائی کر کے مال حاصل کرنا ہر آدمی کے لیے ضروری ہے۔ اس اعتبار سے مال ہر انسان کے لیے ایک قیمتی مددگار کی حیثیت رکھتا ہے۔ مگر انسانی زندگی کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ اس کو علم حاصل کرنا ہے۔ اس کو روحانی ترقی کے لیے کوشش کرنا ہے۔ اس کو انسانیت کی تعمیر و ترقی میں اپنا مثبت حصہ ادا کرنا ہے۔ اس کو اپنے آپ کو اس طرح بنانا ہے کہ اپنے سماج میں وہ اس کا ایک مفید جزء بن کر رہ سکے۔ یہی وہ چیز ہے جس کو مقصد زندگی کہا جاتا ہے۔ اس مقصد کا حصول صرف اس وقت ممکن ہے جبکہ آدمی اپنی طاقت کا ایک حصہ اس میں لگائے۔ مال کمانے کی سرگرمیوں کو ایک حد میں رکھ کر وہ ان کاموں کے لیے اپنے وقت کو فارغ کرے ۔ مال انسان کی جسمانی یا مادی ضرورتوں کو پورا کرتا ہے۔ مگر مال اس کی روحانی اور فکری ضرورتوں کی تکمیل کے لیے کافی نہیں۔ جو آدمی مال ہی کو اپنی زندگی کا مقصد بنا لے اس کا جسم تو مسلسل غذا پا تا رہے گا، مگر اس کی روح فاقہ کر رہی ہوگی ، اس کی ذہنی ہستی اپنی خوراک سے محروم ہو کر ایسی ہو جائے گی جیسے کہ اس کا کوئی وجود ہی نہ ہو ۔ اسی لیے مال کو فتنہ کہا گیا ہے۔ یعنی وہ انسان کے لیے آزمائش ہے مال کا صحیح استعمال انسان کو ہر قسم کی ترقیوں کی طرف لے جاتا ہے۔ اور مال کا غلط استعمال انسان کو تباہی کے گڑھے میں گرا دیتا ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader