اسلام کیا ہے
Urdu book, p. 53
By Maulana Wahiduddin Khan
جب لوگ اپنی حد میں نہ رہیں بلکہ مقرر حد کو توڑ کر ادھر اُدھر دوڑنے لگیں تو ایسے سماج میں لازماً نزاع شروع ہو جائے گی۔ لوگ ایک دوسرے سے ٹکرا کر اپنے آپ کو بھی تباہ کریں گے اور دوسرے کی تباہی کا بھی سامان فراہم کریں گے۔ انسان اجتماعی زندگی میں کس طرح رہے۔ وہ دوسروں کے ساتھ کس طرح معاملہ کرے۔ دوسروں کے ساتھ اس کا سلوک کیسا ہو۔ اپنے قول و عمل میں وہ کیا انداز اختیار کرے۔ ان سب باتوں کے لیے خدا نے واضح احکام دیے ہیں۔ اس نے بتا دیا ہے کہ انسان کیا کرے اور کیا نہ کرے۔ جولوگ زندگی کے معاملات میں وہ کریں جس کی خدا نے ان کو اجازت دی ہے وہ گویا کہ اپنے مقرر دائرہ کے اندر حرکت کر رہے ہیں۔ اس کے برعکس جو لوگ وہ کچھ کرنے لگیں جس سے خدا نے روکا ہے تو وہ گویا کہ اپنے مقرر دائرہ سے باہر آگئے۔ یہی وہ لوگ ہیں جو سماج میں ہر قسم کی خرابیاں پیدا کرتے ہیں۔ وہ خود بھی تباہ ہوتے ہیں اور سماج کی تباہی کا بھی سبب بنتے ہیں۔ سچا انسان وہ ہے جو خدا کے مقرر کیے ہوئے دائرہ میں رہتے ہوئے زندگی گزارے۔ یہی وہ لوگ ہیں جو دنیا میں بھی خدا کی رحمتیں پائیں گے اور آخرت میں بھی خدا کی ابدی رحمتوں سے سرفراز کیے جائیں گے۔ مال مال زندگی کی ضرورت ہے، مال زندگی کا مقصد نہیں، مال کو اگر اس لیے حاصل کیا جائے کہ اس سے زندگی کی ضروری حاجتیں پوری ہوں تو مال انسان کے لیے بہترین مددگار ہے۔ لیکن مال کو اگر زندگی کا مقصد بنا لیا جائے اور بس زیادہ سے زیادہ مال کمانے ہی کو

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader