اسلام کیا ہے
Urdu book, p. 56
By Maulana Wahiduddin Khan
اس دنیا میں کھونا بھی امتحان ہے اور پانا بھی امتحان۔ نہ کھونے والا کام ہے اور نہ پانے والا کامیاب۔ کامیابی اور ناکامی کا اصل معیار یہ ہے کہ ان تجربات کے بعد آدمی کیسا ثابت ہوتا ہے۔ کامیاب وہ ہے جو کھونے اور پانے کے تجربات کے باوجود اعتدال پر رہے۔ دونوں میں سے کوئی تجربہ اس کو اعتدال کی راہ سے ہٹانے والا ثابت نہ ہو۔ ایسے ہی لوگ خدا کی نظر میں کامیاب لوگ ہیں۔ کوئی بھی چیز ان کی کامیابی میں خلل ڈالنے والی نہیں۔ نجات انسان کا سب سے بڑا مسئلہ کیا ہے۔ اس کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ موت کے بعد آنے والی زندگی میں اس کو نجات حاصل ہو۔ وہ خدا کی ابدی رحمتوں میں جگہ پائے۔ ہر انسان جو موجودہ دنیا میں پیدا ہوا ہے اس کو موت کے بعد ایک اور دنیا میں داخل ہونا ہے۔ موجودہ دنیا میں آدمی کو زندگی کے مواقع آزمائش کے لیے ملے ہوئے تھے۔ اگلی دنیا میں جو کچھ کسی کو ملے گا وہ اس کے عمل کے بدلہ کے طور پر ملے گا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ موت سے پہلے کی دنیا میں تو ہر آدمی کو تمام چیزیں لازمی طور پر ملی ہوئی ہیں، خواہ وہ اس کا مستحق ہو یا مستحق نہ ہو۔ مگر موت کے بعد کی دنیا میں یہ لزوم ختم ہو جائے گا۔ اس وقت چیزوں کو پانے کا معیار استحقاق ہو گا نہ کہ امتحان۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگلی دنیا میں جو لوگ مستحق قرار پائیں گے ان کو تو ہر قسم کی نعمتیں مزید اضافہ کے ساتھ دے دی جائیں گی۔ مگر جو لوگ غیر مستحق قرار پائیں گے وہاں ان کے لیے کچھ بھی نہ ہوگا۔ وہ مجبور ہوں گے کہ وہاں کامل محرومی کی زندگی گزاریں۔ یہی ہر آدمی کا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ ہر آدمی کو سب سے زیادہ اس بات پر دھیان

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader