جہاد
Urdu book, p. 58
By Maulana Wahiduddin Khan
مشقتوں کو برداشت کرتے ہوئے اپنی دعوتی مہم کو جاری رکھنا جہاد ہے۔ پڑوسیوں یا تعلق والوں کی طرف سے کوئی کڑوی بات سننے کو ملے یا کسی قسم کا تلخ تجربہ ہو اور آدمی کے اندر اس کی وجہ سے اشتعال آجاۓ ، مگر وہ اپنے آپ کو جوابی عمل سے روکے اور یک طرفہ طور پر لوگوں کے ساتھ خوش گوار تعلقات برقرار رکھے تو یہ ایک جہاد ہوگا۔ جہاد کی ایک اور قسم ہے جس کا دوسرا نام قتال ہے۔ یعنی اللہ کے حکموں کی پیروی کرتے ہوئے دشمن سے لڑنا۔ یہ جہاد جارحیت کے مقابلہ میں اپنے بچاؤ کے لیے ہوتا ہے۔ جہاد کا لفظی مطلب جنگ نہیں ہے۔ مگر خدا کے حکموں کی پیروی میں اپنے بچاؤ کے لیے لڑنا بھی ایک کوشش کا معاملہ ہے، اس لیے اس کو بھی جہاد کہا جاتا ہے۔ لڑائی والا جہاد ایک وقتی اور اتفاقی معاملہ ہے۔ اگر کبھی واقعہً بچاؤ کی ضرورت پیش آجاۓ تو اس وقت اس نوعیت کا جہاد کیا جائے گا۔ اور اگر اس قسم کی شدید ضرورت پیش نہ آۓ تو جنگی جہاد عملاً کرارہے گا۔ کسی عمل کا نام جہاد رکھنے سے وہ عمل جہاد نہیں ہو جائے گا۔ جہاد صرف وہ عمل ہے جو اسلام کے مطابق جہاد ہو۔ اور اسلامی جہاد اصلاً پر امن جد و جہد کا نام ہے۔ یہ پر امن جد و جہد کبھی داخلی اعتبار سے مطلوب ہوتی ہے اور کبھی خارجی اعتبار سے، کبھی وہ احساسات کی سطح پر جاری ہوتی ہے اور کبھی ظاہری اعضاء کی سطح پر۔ خدا کو پکارنا دعا کا مطلب ہے پکارنا۔ اس سے مراد یہ ہے کہ بندہ اپنی حاجات کے لیے یا اپنی زندگی کے اظہار کے لیے خدا کو پکارے۔ یہ پکار بذات خود ایک عبادت ہے۔ خدا ایک زندہ اور مستقل وجود ہے۔ وہ دیکھتا ہے اور سنتا ہے اور یہ طاقت رکھتا ہے کہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader