اسلام اور سائنس
Urdu book, p. 12
By Maulana Wahiduddin Khan
مستقبل تاریک نظر آنے لگا۔ چنانچہ یہ لوگ ترکی کو چھوڑ کر اتنی اور فرانس جانا شروع ہوگئے۔ سائنسی تحقیق کا کام مسلم دنیا سے نکل کر مغربی دنیا میں منتقل ہوگیا۔ ترکوں نے علم اور اہل علم کی جس طرح حوصلہ شکنی کی اس کی دردناک تفصیل محمد کرد علی شامی کی کتاب تاریخ الحضارۃ العربیہ میں دیکھی جاسکتی ہے۔ مغربی دنیا میں ان سائنس دانوں کی زبردست پذیرائی ہوئی۔ صلیبی جنگوں (۱۰۹۵ء۔ ۱۲۷۱ء) میں مسلمانوں کے مقابلہ میں یورپی قوموں کو شکست اس لئے ہوئی تھی کہ مسلمان علم وفن میں ان سے بڑھے ہوئے تھے۔ ان جنگوں میں ابتداءٔ رومی فوجوں نے یونانی آگ (Greek Fire) استعمال کی جس سے مسلمانوں کو نقصان اٹھانا پڑا اسے "یونانی آگ " ایک قسم کی پچکاری تھی جس میں آتش گیر کیمیائی مرکب بھر کر دشمن کی طرف پھینکا جاتا تھا۔ مسلم سائنس دانوں نے اس کے مقابلہ میں ایک اور چیز ایجاد کی ۔ اس میں روغنِ نفط (معدنی تیل) استعمال ہوتا تھا ۔ اس کی مار زیادہ دور تک تھی اور اس کا نقصان بھی یونانی آگ سے بہت بڑھا ہوا تھا۔ یورپ کے مسیحی قدرتی طور پر مسلمانوں کے مقابلہ میں اپنی علمی پس ماندگی کو دور کرنے کے لئے بیتاب تھے۔ اب جو مسلم دنیا کے اہل علم ان کے یہاں پہنچے تو انہوں نے ان کے ساتھ زبردست تعاون کیا۔ یورپ میں علمی تحقیق کا وہ کام دگنی شدت کے ساتھ ہونے لگا جو اس سے پہلے مسلم دنیا میں ہورہا تھا۔ سولہویں صدی عیسوی سے لے کر انیسویں صدی تک ، تقریباً تین سو سالہ عمل کے نتیجہ میں یورپ میں وہ انقلاب آیا جس کو سائنسی اور صنعتی انقلاب کہا جاتا ہے ۔ مغرب کی سائنسی ترقی میں مسلمانوں کے حصہ کے بارے میں مزید تفصیل برنفالٹ کی کتاب تعمیرِ انسانیت (Making of Humanity) میں دیکھی جاسکتی ہے ۔ سولہویں صدی تک مسلمان علم کے میدان میں استادی کے مقام پر تھے ۔ مگر اس کے بعد کی صدیوں میں یورپ نے جو ترقیاں کیں اس نے مسلمانوں کو شاگردی کے مقام پر پہنچادیا۔ مسلمان خود اپنی لائی ہوئی انقلابی دنیا میں دوسری قوموں سے پیچھے ہوگئے ۔ تاہم اب بھی یہ موقع تھا کہ وہ یورپ کی تحقیقات سے فائدہ اٹھاکر آگے بڑھیں اور وہ واقعہ دوبارہ نئی شکل میں ظہور میں آئے جو مسلمانوں کے مقابلہ میں یورپ کے ساتھ پیش آیا تھا۔ مسلمانوں کے علوم کو نیا دنیا بنا کر یورپ ان سے آگے بڑھ گیا تھا۔ اب مسلمان یورپ کے علوم کو لے کر مزید آگے کی ترقیاں حاصل کرسکتے تھے۔ مگر یہاں دو خاص وجہیں راستہ میں حائل ہوگئیں ۔ ایک تاریخی امکان واقعہ بننے سے رہ گیا۔ سائنس کے معاملہ میں موجودہ مسلمانوں کی غفلت ۱۔ صدیوں تک سائنسی علوم سے دور رہنے کے بعد یورپ کے ذریعہ جب سائنس مسلمانوں کی طرف آئی تو وہ صرف ایک علم کے طور پر نہیں آئی۔ بلکہ وہ ملک گیری اور استعمار کے جلو میں آئی نے مسلمانوں کے پاس یہ سائنس لے کر وہ لوگ آرہے تھے جنھوں نے مسلمانوں سے ان کی عظمت اور ان کے اقتدار کو چھینا تھا۔ ان کی تہذیب اور ان کے مذہبی شعائر پر حملے کئے تھے۔ اس موقع پر مسلمان اس دانش مندی کا ثبوت نہ دے سکے کہ وہ مغربی سائنس کو مغربی سیاست سے الگ کرکے دیکھیں۔ انھوں نے دونوں کو ایک سمجھا۔ وہ جس طرح مغربی قوموں کے دشمن بنے ، اسی طرح

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader