Urdu book · اسلام پندرھویں صدی میں

اسلام اور سائنس

Urdu book, p. 13

By Maulana Wahiduddin Khan

وہ مغربی علوم کے بھی دشمن بن گئے۔ جب کہ دوسری قومیں مغرب سے ان کے علوم سیکھ رہی تھیں، مسلمان ان کو دشمن کی چیز سمجھ کر ان سے دور بھاگ رہے تھے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ موجودہ زمانہ میں مسلمان دوسری قوموں سے کم از کم سو سال علم میں پیچھے رہ گئے، قوموں کے اوپر علی امام بننے کا تو کوئی سوال ہی نہیں۔ ۲- مزید نقصان یہ ہوا کہ طویل غفلت کے بعد مسلمانوں میں جو لوگ علم کے مبلغ تھے وہ اس کام کے پوری طرح اہل نہ تھے۔ انھوں نے ایک صحیح کام کو غلط طریقہ سے انجام دینے کی کوشش کی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ مسلمانوں میں ان کو وہ قبولیت حاصل نہ ہو سکی جو باعتبار حقیقت انھیں حاصل ہونی چاہئے تھی۔ مثال کے طور پر علم جدید کی اہمیت ثابت کرنے کے لئے انھوں نے یہ کیا کہ قرآن و حدیث میں جہاں جہاں ”علم“ کا لفظ آیا ہے اس کو انھوں نے ان سیکولر علوم کا مصداق بتایا جو آج یونیورسٹیوں اور کالجوں میں پڑھایا جاتا ہے۔ یہ ایک صحیح بات کے لئے غلط دلیل پیش کرنا تھا۔ کیونکہ یہ ایک حقیقت ہے کہ قرآن و حدیث میں جس علم کی فضیلت بیان ہوئی ہے اس سے مراد علم دین ہے نہ کہ سیکولر یا سائنسی علوم۔ ان علوم کو حاصل کرنا یقیناً مسلمانوں کے لئے ضروری ہے۔ مگر ان علوم کی اہمیت آیت قوت سے ثابت ہوتی ہے نہ کہ آیت علم سے۔ قرآن میں حکم دیا گیا ہے کہ اس قوت کو حاصل کرو جس سے تمھارے حریف کے اوپر تمھاری دھاک قائم ہو۔ موجودہ زمانہ میں سائنسی علوم نے یہی مقام حاصل کر لیا ہے۔ اس لئے سائنسی علوم کا حاصل کرنا مسلمانوں کے لئے ضروری ہے۔ سائنسی علوم میں دستگاہ حاصل کئے بغیر مسلمان آج کی دنیا میں قوت مرہبہ (انفال ۶۰) کے مالک نہیں بن سکتے، اس لئے اس قرآنی حکم کی تعمیل میں موجودہ حالات کے لحاظ سے یہ بات بھی شامل ہو گی کہ وہ ان علوم کو حاصل کریں اور ان کو اسلام اور مسلمانوں کی تقویت کا ذریعہ بنائیں ۔ موجودہ زمانہ کے تعلیمی مصلحین کی اسی غلطی کا نتیجہ تھا کہ مسلمانوں کا دینی طبقہ ان کا سخت مخالف ہو گیا۔ طلب العلم فریضہ علی کل مسلم (حدیث) جیسی نصوص کا مطلب دینی طبقہ کے نزدیک متفقہ طور پر یہ تھا کہ اس سے مراد کتاب و سنت کا علم حاصل کرنا ہے۔ جب تعلیمی مصلحین نے اس طرح کی آیتوں اور حدیثوں کو موجودہ زمانہ کے ”دنیاوی“ علوم پر چسپاں کیا تو دینی طبقہ کو یہ بات سراسر اسلام کی تحریف نظر آئی۔ وہ اس دشمن بن کر کھڑا ہو گیا۔ تعلیمی مصلحین بلاشبہ غلطی پر تھے۔ مگر دینی نمائندوں سے بھی یہ غلطی ہوئی کہ وہ مقصد اور استدلال دونوں کو ایک دوسرے سے الگ کر کے نہ دیکھ سکے۔ اگر وہ ایسا کرتے تو انھیں نظر آتا کہ تعلیمی مصلحین جن علوم کی اہمیت کو آیت علم سے غلط طور پر ثابت کر رہے ہیں وہ آیت قوت سے بالکل درست طور پر ثابت ہو رہی ہے۔ اس لئے اس معاملہ میں اصل کام استدلال کی تصحیح ہے نہ کہ خود مقصد کو باطل قرار دینا۔ اسلام میں سائنس کی اہمیت اسلام میں سائنس کی اہمیت کے متعدد وجوہ ہیں۔ یہاں چند چیزوں کا ذکر کیا جاتا ہے۔ ۱- سائنس، سادہ طور پر، عالم حقائق کے مطالعہ کا نام ہے۔ قرآن میں یہی صفت اہل ایمان کی بتائی گئی ہے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page