Urdu book · اسلام پندرھویں صدی میں

اسلام پندرھویں صدی میں

Urdu book, p. 4

By Maulana Wahiduddin Khan

بسم الله الرحمن الرحيم پہلی صدی ہجری میں اسلام کا مقابلہ شرک سے پیش آیا تھا، چودھویں صدی ہجری میں اسلام کا مقابلہ الحاد سے پیش آیا۔ تاریخ بتاتی ہے کہ پہلے مرحلہ میں صرف چوتھائی صدی کی کوششوں سے نظام شرک کی جڑ اکھڑ گئی۔ اس کے بعد ایسا انقلاب آیا جس کے اثرات تقریباً ایک ہزار سال تک پوری قوت کے ساتھ باقی رہے۔ اس کے برعکس دوسرے مرحلہ میں یہ پناہ کو کوشش کرنے کے بعد بھی نتیجہ بالکل صفر رہا۔ دور الحاد میں جد و جہد اور قربانی کی غیر معمولی مقدار پیش کرنے کے باوجود وہ کامیابی حاصل نہ ہوسکی جو دور شرک میں اس کو حاصل ہوئی تھی۔ اس کی وجہ کیا ہے۔ کیا اسلام اب ایک ختم شدہ طاقت (Spent Force) ہے۔ کیا موجودہ دور میں اسلام اپنی وہ فکری اہمیت کھو چکا ہے جو قدیم دور میں اس کو حاصل تھی۔ اس سوال کا جواب یقینی طور پر منفی میں ہے۔ اسلام قیامت تک کا دین ہے اور اسلام کے لئے کائنات کے مالک نے مقدر کر دیا ہے کہ وہ غالب رہے (الاسلام یعلو ولا یعلی علیہ) اس لئے اسلام نہ اپنی نظریاتی معنویت کو کبھی کھو سکتا اور نہ یہی ممکن ہے کہ اس کو سر بلند کرنے کی مطلوبہ جد و جہد کی جائے اس کے باوجود اس کو سر بلندی حاصل نہ ہو۔ اصل یہ ہے کہ یہ امتحان کی دنیا ہے۔ یہاں خدا نے مختلف قسم کے لوگوں کو یکساں طور پر اپنا کام کرنے کا موقع دیا ہے۔ یہاں خود خدا کی مقررہ سنت کے مطابق یہ واقعہ پیش آتا ہے کہ ایک گروہ دوسرے گروہ کا دشمن بنتا ہے۔ ایک طبقہ دوسرے طبقہ کو گرا کر آگے بڑھ جانا چاہتا ہے (بعضکم لبعض عدو) اس لئے موجودہ دنیا میں کسی کی کامیابی کا مطلب یہ ہے کہ وہ اپنے ماحول میں کام کرنے والی دوسری قوتوں کو سمجھے ، ان کے مخالفانہ منصوبوں کو ناکام بنا کر اپنے لئے راستہ نکالے۔ اس دنیا میں کبھی کسی کو خالی میدان نہیں مل سکتا جس میں وہ بے روک ٹوک مارچ کرتا ہوا چلا جائے۔ مخالف قوتوں کو ناکام بنا کر غالب آنے کی صراط مستقیم (فتح) خدا نے اپنی کتاب میں واضح طور پر بتا دی ہے اور رسول کی سنت میں اس کا کامل عملی نمونہ موجود ہے۔ جس طرح زراعت کے بارے میں قوانین قدرت کی پابندی کر کے فصل اگائی جاتی ہے اسی طرح یہ بالکل ممکن ہے کہ اس صراط مستقیم کی پیروی کر کے تمام مخالف سازشوں کو ناکام بنا دیا جائے اور اسلام کو غلبہ کا وہ مقام دلا دیا جائے جو ازل سے اس کے لئے مقدر ہو چکا ہے۔ اس صراط مستقیم کا خلاصہ یہ ہے کہ تحریک کو خالص مثبت بنیادوں پر اٹھایا جائے۔ مخالفین کے قہر کے اشتعال کے بادجود اہل اسلام کا سکینہ (تحمل) برہم نہ ہو۔ ان کی خدا پرستی اس بات کی یقینی ضمانت بن جائے کہ وہ کسی حال میں حمیت جاہلیہ کا جواب حمیت جاہلیہ سے نہ دیں گے بلکہ ہمیشہ تقویٰ کی روش پر قائم رہیں گے (فتح ۲۶) موجودہ زمانہ میں اسلام کی سربلندی کی جدوجہد کے کامیاب نہ ہونے کی وجہ یہ ہے کہ اس کو خدا کی مقرر کردہ صراط مستقیم پر نہیں چلایا گیا بلکہ خود ساختہ راہوں پر چلایا گیا۔ اور خدا کی دنیا میں خدا ہی کی صراط مستقیم پر چل کر کامیابی ممکن ہے۔ کسی اور راہ پر دوڑنے والا یہاں کبھی منزل تک نہیں پہنچ سکتا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page