Urdu book · اسلام پندرھویں صدی میں

اسلام پندرھویں صدی میں

Urdu book, p. 5

By Maulana Wahiduddin Khan

تیرھویں صدی عیسوی میں جب کہ مسلمان سیاسی طاقت، تمدنی ترقی اور علوم و فنون میں دنیا کی تمام قوموں سے بڑھے ہوئے تھے۔ یورپ نے طے کیا کہ اس کو عربی پڑھنی ہے اور مسلمانوں کے علوم سیکھنے ہیں۔ یہی فیصلہ تھا، جو سولہویں صدی کے اس عظیم واقعہ کا سبب بنا جس کو دنیا یورپ کی نشاۃ ثانیہ (Renaissance) کے نام سے جانتی ہے۔ مسلمانوں کے علوم سیکھ کر اور ان میں اضافہ کر کے بالآخر یورپ اتنا طاقت ور ہو گیا کہ نہ صرف مسلمانوں پر بلکہ ساری دنیا پر چھا گیا۔ اس واقعہ کے چار سو برس بعد یہی صورت حال برعکس شکل میں مسلمانوں کے سامنے تھی۔ انہوں نے دیکھا کہ یورپ سیاست و تمدن اور علوم و فنون میں سب سے آگے بڑھ گیا ہے۔ ان کے اندر یہ رجحان ابھرا کہ وہ یورپی زبانیں سیکھیں اور یورپ کے علوم کو حاصل کریں۔ مگر یہاں نتیجہ برعکس نکلا۔ یورپی طرز کی تعلیم نے ہم کو یورپ کا ذہنی غلام بنا دیا۔ ہم اپنے علیحدہ قومی وجود کو بھول کر یورپ کے رنگ میں رنگ گئے۔ ایک ہی نوعیت کے دو واقعات میں انجام کا یہ فرق کیوں ہے۔ اس کا جواب ذہنیت کے اس فرق میں ہے جو دونوں جگہ پایا جاتا ہے۔ یورپ نے ہمارے علوم کو اس جذبہ کے تحت سیکھا تھا کہ وہ ہمارے ہتھیاروں سے ہم کو شکست دے سکے؛ اس کے برعکس ہم یورپی علوم کی طرف اس لیے بڑھے کہ ہم اس کے نقال بن کر اس کی نظروں میں باعزت ہو جائیں اور جہاں ذہنیت میں اس قسم کا فرق پایا جائے وہاں انجام میں فرق پایا جانا لازمی ہے۔ مسلمانوں کو ایک ہزار سال تک دنیا میں وہی حیثیت حاصل رہی ہے، جو آج روس یا امریکہ کو حاصل ہے۔ اس وقت جب کہ یورپ پر ابھی قرون مظلمہ (Dark Ages) کا اندھیر ا چھایا ہوا تھا، عرب مسلمان ایک شان دار تہذیب کو وجود میں لا چکے تھے۔ اور اپنی تحقیقات اور یونانی اور دوسرے علوم کے ترجموں کی مدد سے سائنس اور فلسفہ میں دنیا کی امامت کر رہے تھے، اس وقت مسلمان ساری دنیا میں علم اور تہذیب کے تنہا مالک تھے۔ عربی زبان دنیا کی واحد علمی زبان تھی اور ساری دنیا کے لوگ علوم و فنون کے اکتساب کے لیے مسلم مرکزوں (دمشق، بغداد، قرطبہ، غرناطہ) کا اسی طرح سفر کرتے تھے جیسے آج لوگ علیٰ تعلیم کے لیے یورپ اور امریکہ کے شہروں میں جاتے ہیں۔ بارہویں اور تیرہویں صدی میں جب کہ مسلمانوں کی طاقت عروج پر تھی اور وہ عرب سے بڑھے بڑھے فرانس تک پہنچ گئے تھے اس وقت یورپ نے مسلمانوں کے خلاف اپنی شدید ترین جنگ چھیڑ دی اور گیارہویں صدی کے آخرہ (۱۰۹۹) سے لے کر تیرہویں صدی کے آخر تک دو سو برس پورا یورپ مسلمانوں کے خلاف خوفناک جنگ لڑتا رہا۔ یہ جنگ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page