اسلام پندرھویں صدی میں
Urdu book, p. 8
By Maulana Wahiduddin Khan
دی کہ ایک ایسا گروہ پیدا ہو جائے جو مغربی تمدن اور یورپی ادب میں کمال حاصل کے ہوتے ہو۔ کمال اتاترک کا نام نہاد انقلاب اور روس کے اشتراکی انقلاب میں صرف چند سال کا فرق ہے۔ مگر حیرت انگیز بات ہے کہ روس آج خلائی دور میں داخل ہو چکا ہے اور ترکی ابھی تک زمین پر بھی مستحکم مقام حاصل نہ کر سکا۔ یورپ جس ذہن کے تحت ہمارے علوم کی طرف بڑھا وہ یہ تھا کہ مسلمانوں سے ان کے علوم اور اُن کے ہنر کو لے کر اس کے ذریعہ سے انہیں شکست دی جائے۔ ان چیزوں کو اس نے وقت کی طاقت سمجھا اور اس کو اپنے دشمن کے مقابلے میں استعمال کیا ۔ چنانچہ اپنی اس مہم کو یورپ نے "تقلیدِ مشرق " یا "تقلیدِ مسلم " کا نام نہیں دیا بلکہ اس کو روحانی صلیبی جنگ (Spiritual Crusaders) کہا، جس کا مطلب یہ تھا کہ صلیبی لڑائیوں کی ہاری ہوئی بازی کو نئی ٹکنیک سے کامیاب بنایا جائے اور جب اس کوشش سے وہ اپنے کو ایک نئے انقلاب تک پہنچانے میں کامیاب ہو گئے تو اس کو انہوں نے یہ حیثیت دی گویا انہوں نے خود اپنی کھوئی ہوئی حیثیت دوبارہ حاصل کی ہے۔ چنانچہ یورپ میں اس نئے انقلاب کا تاریخی نام نشأۃ ثانیہ (Renaissance) رکھا گیا ہے۔ یہ فرانسیسی زبان کا لفظ ہے جس کا مطلب ہے _ نیا جنم (Rebirth) گویا یہ کوئی غیر سے حاصل کی ہوئی چیز نہیں ہے، بلکہ یہ یورپ کی اپنی ہی متاع ہے جو اس نے دوبارہ پائی ہے۔ یورپ نے لیتے وقت اگرچہ ان علوم کو مسلمانوں سے لیا تھا۔ مگر اس نے حال کی کڑی کو حذف کر کے اس کا رشتہ ماضی سے ملایا اور اس کو مغرب کے ایک ملک ۔ یونان ۔ کی چیز قرار دے کر اس کو نشأۃ ثانیہ کہا۔ اس کے برعکس ہم نے ایسا نہیں کیا، حالانکہ یورپ جو چیز ہمیں دے رہا تھا وہ اضافہ شدہ حالت میں وہی سرمایہ تھا جو یورپ کو ہم نے عطا کیا تھا۔ مسلمان مغربی علوم کی طرف خالص تقلیدی ذہن کے ساتھ بڑھے ان کا یہ عمل سر سید کے یہاں "پیروی مغرب" اور اتاترک کے یہاں "غرب دو غرو" کے ہم معنی تھا۔ ذہنیت کے اس فرق کا لازمی نتیجہ یہ ہونا تھا کہ یورپ ہمارے علوم کو سیکھ کر ہمیں شکست دے اور اس کے برعکس ہم مغرب کے علوم کو سیکھ کر صرف مغرب کے بھونڈے نقل بن کر رہ جائیں۔ مصطفے کمال کی تحریک کا آخری نشانہ یہ تھا کہ ترک قوم ہیٹ اور پتلون پہننے لگے۔ اور سرسید کا منہائے نظریہ تھا کہ مسلم نوجوان مغربی ادبیات میں کمال حاصل کر لیں۔ ظاہر ہے کہ اس طرح کے ذہن کے تحت مغرب کی طرف بڑھنے کا وہی نتیجہ برآمد ہو سکتا تھا جو عملاً برآمد ہوا۔ یہ تاریخ جہاں ایک طرف ہماری غلطی کو بتاتی ہے وہیں اس کے اندر اس کا بھی نشان ہے کہ اب ہمیں کیا کرنا چاہیے ۔ ہمیں وہی کرنا چاہیے جو مغربی تو فونوں نے ہمارے ساتھ کیا۔ مغربی علوم کو اس لیے سیکھنا تاکہ اس کے ذریعے مغربی تہذیب کو شکست دے کر اسلام کو غالب کیا جائے۔ اگر ہمارے اندر یہ ذہن پیدا ہو جائے تو وہی نتیجہ برعکس شکل میں ظاہر ہو گا جو مغربی قوموں کے لیے ہمارے مقابلے میں ظاہر ہوا تھا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader