اسلام پندرھویں صدی میں
Urdu book, p. 7
By Maulana Wahiduddin Khan
لوکلے کر یورپ نے اپنی کوشش سے اس میں اضافے کی اور اتنی ترقی کی کہ تاریخ میں پہلی بار قوت کا معیار بدل دیا اور بالآخر مسلمانوں کو ہر میدان میں شکست دے کر علم و عمل کی پوری دنیا کا مالک بن گیا۔ جدید مورخین نے تقریبا متفقہ طور پر تسلیم کیا ہے کہ یورپ کی نشأۃ ثانیہ کا اہم ترین محرک وہ علوم تھے جو مسلمانوں کی معرفت یورپ تک پہنچے (ویسٹرن سوئیزیشن ، ایڈورڈ میکنل برن ) اس کے پانچ سو برس بعد تاریخ دوسرا منظر دیکھتی ہے۔ یورپ کی ترقی اور عروج سے متاثر ہو کر مسلمانوں کے اندر یہ رجحان ابھرا کہ وہ یورپ کے علوم و فنون کو سیکھیں۔ مگر یہاں پھر اس رجحان کا محرک اس سے بالکل مختلف تھا جو یورپ کی تاریخ میں ہمیں نظر آتا ہے۔ سر سید احمد خاں (۹۸ - ۱۸۱۷) جو پروفیسر گب کے الفاظ میں اسلام میں پہلی جدت پسند تنظیم (Modernist Organisation) کے بانی تھے۔ انہوں نے ۱۸۷۵ء میں علی گڑھ کالج قائم کیا اور اس پر اپنی ساری زندگی وقف کر دی۔ یہانتک کہ ۱۹۲۰ء میں وہ یونیورسٹی بن گیا، وہ یورپی طرز کی تعلیم کے زبردست حامی تھے۔ ان کا مقصد اس تعلیم سے کیا تھا اس کی ترجمانی ان کے رفیق خاص مولا نا حالی نے ان الفاظ میں کی ہے: " حالی اب آئیے روی مغربی کریں " سرسید نے جب انگلستان سے واپس آکر دسمبر ۱۸۷۰ء میں تہذیب الاخلاق نکالنا شروع کیا تو انہوں نے پہلے پرچہ کے شروع میں لکھا: " اس پرچہ کے اجراء سے مقصد یہ ہے کہ ہندوستان کے مسلمانوں کو کامل درجہ کی سوپلائزیشن یعنی تہذیب اختیار کرنے پر راغب کیا جائے تاکہ جس حقارت سے سوپلائزڈ یعنی تہذیب قومیں ان کو دیکھتی ہیں وہ رفع ہو اور وہ بھی دنیا میں معزز و مہذب قوم کہلائیں " سرسید جب ترقی کا تصور کرتے تو ان کے ذہن میں " زرق برق وردیاں پہنے کرنل اور میجر بنے ہوئے مسلمان نوجوان " ہوتے تھے۔ ان کا منتہائے مقصود ایسی تعلیم تھی جو مسلمانوں کو اعلیٰ عہدوں تک پہنچا سکے ۔ سرسید کی تہذیب کو مہدی افادی نے بلاطور پر " اینگلو محمدن کلچر " کا نام دیا ہے۔ کمال اتاترک (۱۹۳۸- ۱۸۸۱) جو اس گروہ کا دوسرا نمایاں ترین نام ہے، وہ اس معاملے میں سرسید سے بھی آگے تھے ترکی میں مغربی تعلیم و تہذیب کی اشاعت سے کمال اتاترک کا مقصد کیا تھا، اس کا اندازہ اس عنوان سے ہوتا ہے جو اس مہم کو وہاں دیا گیا۔ کمال اتاترک اور ان کے ساتھیوں کے نزدیک یہ " غرب دوغرو " تھا، جس کے معنی ترکی زبان میں ۔ " سمت مغرب میں سفر " کے ہیں۔ سمت مغرب میں سفر کا یہ کام اس درجہ اہم تھا کہ صرف رومن رسم الخط جاری کرنے اور ترکی باشندوں کو ہیٹ پہنانے کے لیے ہزاروں آدمی اس طرح ہلاک کر دیئے گئے گویا وہ ریاست سے بغاوت کے مجرم ہوں ۔ اسی تقلیدی ذہنیت کا نتیجہ تھا کہ ہمارے ان مصلحین کی ساری توجہ بس یورپ کی تہذیب اور یورپ کے زبان و ادب کے حصول پر لگی رہی ۔ سائنس اور ٹیکنالوجی جو مغربی قوموں کی ترقی کا اصل راز ہے، اس کو مسلمانوں کے اندر رواج کرنے کی انہوں نے زیادہ کوشش نہیں کی۔ سرسید نے تو صراحۃ مسلمانوں کے لیے ٹیکنیکل ایجوکیشن کی مخالفت کی اور " اعلیٰ درجہ کی دماغی تعلیم " کو سب سے مقدم قرار دیا ۔ یہی اس زمانہ میں تعلیم جدید کے حامیوں کا عام نقطۂ نظر تھا۔ ان حضرات نے ساری توجہ صرف اس پر

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader