جہاد کا تصورِ اسلام میں
Urdu book, p. 11
By Maulana Wahiduddin Khan
سنت کے مطابق، اسلام میں جارحانہ جنگ نہیں ہے، اسلام میں صرف مدافکانہ جنگ ہے اور وہ بھی صرف اس وقت جب کہ اس سے بچنا سرے سے ممکن ہی نہ رہے۔ حقیقت یہ ہے کہ زندگی میں ہمیشہ دو میں سے ایک کے انتخاب کا مسئلہ رہتا ہے ۔ پرامن جدوجہد، اور پر تشدد جدو جہد۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کا مطالعہ بتاتا ہے کہ آپ نے ہمیشہ اور ہر معاملہ میں یہی کیا کہ پرتشدد طریق کار کو چھوڑ کر پرامن طریق کار کو اختیار فرمایا۔ آپ کی پوری زندگی اسی اصول کا ایک کامیاب عملی نمونہ ہے ۔ یہاں اس نوعیت کی چند مثالیں درج کی جاتی ہیں۔ ۱۔ پیغمبری ملنے کے بعد فوراً ہی آپ کے سامنے یہ سوال تھا کہ آپ مذکورہ دونوں طریقوں میں سے کس طریقہ کو اختیار کریں۔ جیسا کہ معلوم ہے، پیغمبر کی حیثیت سے آپ کا مشن یہ تھا کہ شرک کو ختم کریں اور توحید کو قائم فرمائیں۔ مکہ میں کعبہ اللہ اسی توحید کے مرکز کے طور پر بنایا گیا تھا، مگر آپ کی بعثت کے وقت کعبہ میں ۳۶۰ بت رکھ دیئے گئے تھے۔ اس لحاظ سے بظاہر یہ ہونا چاہیئے تھا کہ قرآن میں سب سے پہلے اس طرح کی کوئی آیت اترتی کہ : طهر الكعبة من الأصنام (کعبہ کو بتوں سے پاک کرو) اور اس کو دوبارہ مرکز توحید بنا کر اپنے مشن کو آگے بڑھاؤ۔ مگر کام کا یہ آغاز قریش سے جنگ کرنے کے ہم معنی تھا، جن کی قیادت عرب میں اسی لیے قائم تھی کہ وہ کعبہ کے متولی بنے ہوئے تھے۔ واقعات بتاتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کعبہ کی عملی تطہیر کے معاملہ سے مکمل طور پر احتراز فرمایا اور اپنے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader