Urdu book · اسلامی جہاد

جہاد کا تصورِ اسلام میں

Urdu book, p. 12

By Maulana Wahiduddin Khan

آپ کو صرف توحید کی نظری دعوت تک محدود رکھا ۔ یہ گویا پرتشدد طریقہ کار کے مقابلہ میں پُر امن طریقہ کار کی پہلی پیغمبرانہ مثال تھی ۔ ۲۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسی پر امن اصول پر قائم رہتے ہوئے تیرہ سال تک مکہ میں اپنا کام کرتے رہے، مگر اس کے باوجود قریش آپ کے دشمن بن گئے۔ یہاں تک کہ ان کے سرداروں نے باہمی مشورہ سے یہ طے کیا کہ سب مل کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کردیں ۔ چنانچہ انہوں نے تلواروں سے مسلح ہوکر آپ کے گھر کو گھیر لیا۔ یہ گویا رسول اور اصحاب رسول کے لیے جنگ کا کھلا چیلنج تھا۔ مگر آپ نے اللہ کی رہنمائی کے تحت یہ فیصلہ فرمایا کہ جنگی مقابلہ سے اعراض کریں۔ چنانچہ آپ رات کے سناٹے میں مکہ سے نکلے اور خاموشی کے ساتھ سفر کرتے ہوئے مدینہ پہنچ گئے ۔ اس واقعہ کو اسلام کی تاریخ میں ہجرت کہا جاتا ہے ۔ ہجرت واضح طور پر پرتشدد طریقہ کار کے مقابلہ میں پُر امن طریقہ کار کو اختیار کرنے کی ایک مثال ہے۔ ۳۔ غزوہ خندق یا غزوہ احزاب بھی اسی سنت کی ایک مثال ہے۔ اس موقع پر مختلف قبائل کے لوگ بہت بڑی تعداد میں جمع ہوکر مدینہ کی طرف روانہ ہوئے۔ وہ مدینہ پر حملہ کرنا چاہتے تھے۔ یہ واضح طور پر آپ کے مخالفین کی طرف سے ایک جنگی چیلنج تھا۔ مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ سے بچنے کے لیے یہ طریقہ اختیار فرمایا کہ رات دن کی محنت سے اپنے اور مخالفین کے درمیان ایک لمبی خندق کھود دی۔ اس

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page