اسلامی جہاد
Urdu book, p. 24
By Maulana Wahiduddin Khan
بلکہ وہ مقدس جہاد ہے۔ وہ شہادت کا راستہ ہے جو تم کو سیدھے جنت تک پہنچانے والا ہے۔ اس طرح شیطانی تزئین کا شکار ہو کر لوگ تشدد کا عمل کرنے لگتے ہیں۔ وہ ایک غلط کام کر رہے ہوتے ہیں، لیکن شیطان اُن کو بتاتا ہے کہ یہ ایک اچھا کام ہے۔ اس شیطانی تزئین سے بچنے کا صرف ایک ہی راستہ ہے، وہ یہ کہ اپنے عمل کو نتیجہ (result) کے اعتبار سے جانچا جائے ۔ جو تشدد انہ عمل تباہی کے انجام تک پہنچ رہا ہو، جس سے ملے ہوئے مواقع برباد ہوتے ہوں، اُس کے بارے میں یہ یقین کر لیا جائے کہ وہ شیطان کی تزئین کا نتیجہ ہے اور پھر توبہ واستغفار کر کے اُس سے دوری اختیار کر لی جائے۔ حقیقت یہ ہے کہ تشدد اپنے آپ میں ایک نا مطلوب فعل ہے۔ تشدد کبھی کوئی اصلاح پیدا نہیں کرتا، وہ صرف مزید نقصان کا سبب بنتا ہے۔ تشدد ایک حیوانی فعل ہے، وہ کوئی انسانی فعل نہیں۔ تشدد ہمیشہ نفرت اور عداوت سے پیدا ہوتا ہے۔ اپنے اندر سے نفرت اور عداوت کی سوچ کو ختم کر دیجئے ۔ اس کے بعد کبھی شیطان آپ کے اوپر قابو نہ پا سکے گا۔ رَدِ عمل اسلام میں نہیں بہت سے لوگ جنگ اور تشدد میں مبتلا ہیں، انفرادی سطح پر بھی اور اجتماعی سطح پر بھی۔ اُن سے کہا جائے کہ تم یہ تباہ گن کام کیوں کر رہے ہو، تو وہ یہ جواب دیں گے کہ۔ یہ تو ایک فطری ردِ عمل ہے۔ جب کسی گروہ کے خلاف ظلم اور نا انصافی کا واقعہ پیش آئے گا،

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader