Urdu book · اسلامی جہاد

رَدِ عمل اسلام میں نہیں

Urdu book, p. 25

By Maulana Wahiduddin Khan

تو اس کے اندر ضرور جوابی ردِّ عمل (reaction) پیدا ہوگا۔ وہ گن (gun) اور بم استعمال کرے گا، یہاں تک کہ آخر کار وہ خود کش بم باری (suicide bombing) کا طریقہ اختیار کرے گا۔ اگر ہمارے متشددانہ ردِّ عمل کو ختم کرنا ہے، تو فریقِ ثانی کی طرف سے کیے جانے والے ظلم اور نا انصافی کو ختم کرنا ہوگا، ورنہ ہماری طرف سے متشددانہ کارروائیوں کا سلسلہ برابر جاری رہے گا۔ ردِّ عمل (reaction) کو ختم کرنا ہے تو پہلے عمل (action) کو ختم کیجیے۔ اس معاملے میں یک طرفہ نصیحت سے کوئی فائدہ ہونے والا نہیں۔ ردِّ عمل کا یہ فلسفہ سرتا سر غیر فطری ہے۔ ایسے لوگوں کی اصل غلطی یہ ہے کہ انھوں نے اپنے ذہنوں میں عمل کا غلط معیار قائم کر لیا ہے۔ عمل کا صحیح معیار یہ ہے کہ عمل کے بعد پیش آنے والے نتیجہ (result) کو دیکھا جائے۔ صحیح عمل کی پہچان یہ ہے کہ وہ عمل کرنے والوں کے لیے مفید نتیجہ پیدا کرے۔ جو عمل مفید نتیجہ پیدا نہ کرے، وہ سرے سے قابلِ ترک ہے۔ یہ ایک فطری حقیقت ہے کہ کوئی عمل یا تو مفید نتیجہ پیدا کرتا ہے، یا وہ عمل کرنے والوں کے لیے کاؤنٹر پروڈکٹیو (counter productive) ثابت ہوتا ہے۔ اس معاملے میں تیسری کوئی صورت نہیں۔ عملی اقدام وہی درست ہے جو نتیجہ خیز ہو۔ جو عملی اقدام نتیجہ خیز نہ ہو، وہ صرف اپنی تباہی میں اضافے کے ہم معنی ہے، اور اپنی تباہی میں اضافہ کبھی کسی دانش مند کا کام نہیں ہو سکتا۔ کسی عمل کے مقابلے میں جذباتی ردِّ عمل،

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page