Urdu book · اسلامی جہاد

خلاصہ کلام

Urdu book, p. 30

By Maulana Wahiduddin Khan

قتال دونوں کے احکام اور آداب ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہیں۔ جہاد دعوت کا اصل نشانہ فریق ثانی کی سوچ کو بدلنا ہوتا ہے، جبکہ قتال کا نشانہ برعکس طور پر فریق ثانی کا استیصال کرنا ہے۔ جہاد اور قتال کے درمیان ایک بنیادی فرق یہ ہے کہ جہاد بہ معنی دعوت ایک عمومی حکم ہے۔ دعوتی جہاد ہمیشہ اور ہر حال میں کرنا ہے۔ جہادِ دعوت کا نشانہ اللہ کے پیغام کو اُس کے بندوں تک پہنچانا ہے۔ دعوت انسانی خیر خواہی پر مبنی ایک مثبت کام ہے جو ہر زمانے میں اور ہر نسل میں جاری رہتا ہے۔ اِس کے برعکس، جہاد بہ معنی قتال ایک وقتی عمل ہے جو صرف اُس وقت کیا جاتا ہے جب کہ کوئی بیرونی ملک کسی مسلم ملک پر مسلح حملہ کردے۔ اِس حملے کا مقابلہ کرنے کی ذمے داری افراد پر نہیں ہے، اِس کی ذمے داری صرف منظم حکومت پر ہے جو حسبِ ضرورت اِس کا انتظام کرتی ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page