Urdu book · اسلامی جہاد

اسلامی جہاد

Urdu book, p. 29

By Maulana Wahiduddin Khan

غیر شعوری طور پر انھیں جذبات کے تحت اپنی زندگی کا نقشہ بناتا ہے۔ ایسی حالت میں یہ بلا شبہ ایک جہادی عمل ہے کہ آدمی خدا کو مسلسل طور پر اپنا مرکز تو جہ بنائے وہ صراط مستقیم سے اپنے آپ کو ہٹنے نہ دے ۔ یہی وہ پر مشقت عمل ہے جس کو حدیث میں جہادِ نفس کہا گیا ہے۔ خلاصہ کلام جہاد ایک عربی لفظ ہے۔ اس کے معنی وہی ہیں جس کو پر امن جد و جہد (peaceful struggle) کہا جاتا ہے۔ اس پر امن جد و جہد سے مراد اصلا دعوتی جد و جہد ہے، جیسا کہ قرآن کی سورہ الفرقان میں ارشاد ہوا ہے : وجاهد هم به جہاداً كبيراً (25:52) یعنی پر امن جد و جہد کے ذریعے لوگوں تک قرآن کا پیغام پہنچانا۔ دعوت اصلاً ایک نظریاتی جد و جہد (ideological struggle) ہے۔ یہ ایک بے حد وسیع کام ہے۔ اس کے مختلف تقاضے ہیں۔ دعوت کے کام کو جب اس کے تمام مطلوب تقاضوں کے ساتھ انجام دینے کی کوشش کی جائے تو وہ ایک عظیم جد و جہد بن جاتا ہے۔ اسی لیے اس دعوتی عمل کو جہاد کہا گیا ہے۔ اصلاً جہاد کا مطلب یہی ہے۔ تاہم بعض اوقات اس کے وسیعی مفہوم کے اعتبار سے، جہاد کے لفظ کو قتال (جنگ) کے معنی میں بھی استعمال کیا جاتا ہے، لیکن یہ اُس کا صرف تو سیعی مفہوم ہے۔ جہاں تک احکام اور آداب کا تعلق ہے ، جہاد اور

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page