جہاد کا تصورِ اسلام میں
Urdu book, p. 7
By Maulana Wahiduddin Khan
حد تک کوشش کر ڈالی۔ جہاد مبالغہ کا صیغہ ہے، یعنی کسی کام میں اپنی ساری ممکن کوشش صرف کرنا۔ لسان العرب میں ہے: الجہاد: المبالغة و استفراغ الوسع فی الحرب أو اللسان أو ما أطاق من شئ (۳/ ۱۳۵)۔ قرآن میں ارشاد ہوا ہے: وجاهدوا في الله حق جهاده (الحج: ۷۸) یعنی اللہ کی راہ میں خوب کوشش کرو جیسا کہ کوشش کرنے کا حق ہے۔ عربی زبان میں جہاد اصلاً صرف کوشش یا بھر پور کوشش کے معنی میں ہے۔ دشمن سے جنگ بھی چوں کہ کوشش کی ایک صورت ہے، اس لیے تو وسیعی مفہوم کے اعتبار سے دشمن کے ساتھ جنگ کو بھی جہاد کہہ دیا جاتا ہے۔ تا ہم اس دوسرے مفہوم کے لیے عربی میں اصل لفظ قتال ہے نہ کہ جہاد۔ دشمن سے جنگ ایک اتفاقی واقعہ ہے جو کبھی پیش آتا ہے اور کبھی پیش نہیں آتا۔ لیکن جہاد ایک مسلسل عمل ہے جو مومن کی زندگی میں ہر دن اور ہر رات جاری رہتا ہے، وہ کبھی ختم نہیں ہوتا۔ وہ مستقل جہاد یہ ہے کہ انسان اپنی زندگی کے ہر معاملہ میں اللہ کی مرضی پر قائم رہے۔ اس قیام میں جو چیز بھی رکاوٹ ہو، اس کو اپنی زندگی پر اثر انداز نہ ہونے دے۔ مثلاً نفس کی خواہش، مفاد کی طلب، رسم و رواج کا زور، مصلحتوں کے تقاضے، ذاتی انا کا مسئلہ، مال کی حرص، وغیرہ۔ یہ تمام چیزیں عمل صالح کے لیے رکاوٹ کی حیثیت رکھتی ہیں۔ اس قسم کی تمام رکاوٹوں کو زیر کرتے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader