اسلامی جہاد
Urdu book, p. 6
By Maulana Wahiduddin Khan
(الفرقَان ۵۲) یعنی غیر مومنین کے ساتھ قرآن کے ذریعہ جہاد کرو۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ قرآن کی تعلیمات کو پھیلانے کے لیے پرامن جدوجہد کرو۔ ۴۔ اسی طرح پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: المجاهد من جاهد نفسه في طاعة الله (الترمذي، فضائل الجهاد) یعنی مجاہد وہ ہے جو اللہ کی اطاعت میں اپنے نفس سے جہاد کرے۔ اس سے معلوم ہوا کہ نفس کی ترغیبات سے لڑ کر اپنے آپ کو سچائی کے راستہ پر قائم رکھنا جہاد ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ لڑائی داخلی طور پر نفسیات کے میدان میں ہوتی ہے، نہ کہ خارجی طور پر کسی جنگ کے میدان میں۔ ۵۔ ایک روایت کے مطابق، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: الحج جهاد (ابن ماجه، کتاب المناسک) یعنی حج جہاد ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ حج کا عمل ایک مجاہدانہ عمل ہے۔ حج کو مطلوب انداز میں انجام دینے کے لیے آدمی کو سخت جدوجہد کرنی پڑتی ہے۔ جہاد کا تصورِ اسلام میں جہاد کا مادہ جہد ہے۔ جہد کے معنی ہیں کوشش کرنا (to strive, to struggle)۔ اس لفظ میں مبالغہ کا مفہوم ہے یعنی کسی کام میں اپنی ساری کوشش صرف کر دینا۔ عربی میں کہا جاتا ہے کہ بذل جهده‘ یا ’بذل مجهوده‘ یعنی اس نے اپنی پوری طاقت صرف کر دی۔ لسان العرب میں ہے کہ : جهد الرجل فى كذا أى جد فيه و بالغ (۳/۱۳۳) آدمی نے فلاں معاملہ میں جدوجہد کی، یعنی اس میں مبالغہ کی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader