اسلامی معاشرہ
Urdu book, p. 113
By Maulana Wahiduddin Khan
قرآن کی سورہ الحجرات میں بتایا گیا ہے کہ ایمان والے لوگ آپس میں کس طرح رہیں ۔ بتایا گیا ہے کہ وہ بھائیوں کی طرح مل جل کر رہیں ۔ اگر کسی وجہ سے دو آدمیوں میں کوئی جھگڑا پیدا ہو جائے تو تمام لوگ اس کی اصلاح کے لئے دوڑ پڑیں ، ویسے ہی جیسے کوئی اپنے گھر میں آگ لگتی ہوئی دیکھتا ہے تو اس کو بجھانے کے لئے دوڑ پڑتا ہے ۔ اسی کے ساتھ ان تمام برائیوں سے بچنے کا اہتمام کیا جائے جو آپس کے تعلقات کو بگاڑنے والی ہیں ۔ کسی شخص میں کوئی کمی دکھائی دے تو لوگ اس کی ہنسی نہ اڑائیں۔ عزت اور ذلت خدا کے ہاتھ میں ہے۔ اس لئے آدمی کو ڈرنا چاہئے کہ کیا معلوم دوسرا شخص خدا کے نزدیک مجھ سے بہتر تدرار پائے ۔ کوئی کسی کا کچھ کام بنا دے تو وہ اس کو طعنہ نہ دے ، بلکہ یہ سمجھے کہ خدا نے ایک شخص کو مدد پہنچانے کے لئے اس کو اپنا ذریعہ بنایا ۔ کسی کو بد نام کرنے کے لئے اس کا نام نہ بگاڑا اجائے ۔ ناکافی معلومات کے ساتھ کسی کے بارہ میں بد گمانی ہو جائے تو تحقیق کے بغیر اس کو نہ مانے۔ کوئی کسی کا بھید جاننے کی کوشش نہ کرے۔ جس طرح آدمی اپنے بھید کو چھپا نا پسند کرتا ہے اسی طرح اس کو پسند کرنا چاہئے کہ دوسرے کا بھید بھی چھپا رہے۔ کوئی شخص کسی کی غیبت نہ کرے ۔ غیر موجود آدمی کا برائی کے ساتھ تذکرہ کر نا اس پر ایسی حالت میں حملہ کرنا ہے جب کہ وہ اپنے دفاع کے لئے موجود نہیں۔ ان تمام سماجی برائیوں سے بچنے کا ایک ہی ذریعہ ہے اور وہ خدا کا خوف ہے۔ آدمی کے اندر اگر خدا کا خوف اور آخرت کا اندیشہ پیدا ہو جائے تو اس کے اندر تمام ضروری اوصاف پیدا ہو جائیں گے۔ یہ احساس آدمی کی زندگی میں ایک قسم کا چوکییدار بن کر شامل ہو جاتا ہے۔ وہ ہر اس موقع پر آدمی کو روک دیتا ہے جب کہ وہ اپنے بھائی کے ساتھ بے انصافی کرنے جا رہا ہو۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader