اسلام کی آفاقیت
Urdu book, p. 136
By Maulana Wahiduddin Khan
اسلام کی آفاقیت اسلام کا آغاز ۶۱۰ء میں ہوا۔ اس وقت عرب کے شہر یثرب (مدینہ) میں دو قبیلے آباد تھے۔ ایک اوس اور دوسرے خزرج۔ یہ دونوں قبیلے ہمیشہ آپس میں لڑتے رہتے تھے۔ مگر جب ایسا ہوا کہ ان پر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے لائے ہوئے دینِ توحید کی حقیقت کھلی اور وہ اسلام کے دائرہ میں داخل ہوئے تو ان کی آپس کی لڑائیاں ختم ہوگئیں۔ دو دشمن گروہ ایک دوسرے کے دوست گروہ بن گئے۔ جو لوگ اپنے اپنے ذاتی مفاد کے لئے آپس میں لڑتے رہتے تھے، وہ اب متحد ہو کر بلند تر انسانی مفاد کے مجاہد بن گئے۔ پہلے اور بعد میں یہ فرق کیوں ہوا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ پہلے دونوں قبیلے صرف اپنی اپنی بڑائی کو جانتے تھے۔ اوس کا قبیلہ خزرج پر بڑا بننے کی کوشش کرتا اور خزرج کا قبیلہ اوس کے اوپر بڑا بننا چاہتا۔ اس طرح دو بڑائیاں آپس میں ایک دوسرے سے ٹکراتی رہتی تھیں اور ان میں کبھی موافقت اور ہم آہنگی کی نوبت نہیں آتی تھی۔ مگر جب انھوں نے اسلام کے ذریعہ ایک خدا کی بڑائی کو دریافت کیا تو ان کی اپنی الگ الگ بڑائیاں ختم ہوگئیں اور صرف ایک سب سے اونچی بڑائی باقی رہی۔ پہلے دونوں قبیلے غیر مشترک بڑائیوں میں جی رہے تھے، اب دونوں ایک ہی مشترک بڑائی میں جینے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader