Urdu book · اسلامی تعلیمات

اسلام کی آفاقیت

Urdu book, p. 143

By Maulana Wahiduddin Khan

خدا کو پانے سے پہلے آدمی دنیا کی محدودیتوں میں گم رہتا ہے۔ خدا کو پانے کے بعد وہ دنیا کی محدودیتوں سے آگے نکل جاتا ہے۔ وہ اپنی آرزوؤں اور اپنے حوصلوں کی تسکین کے لئے ایک بلند تر سطح پا لیتا ہے۔ یہ وہ دنیا ہے جہاں کھونا بھی پانا بن جاتا ہے۔ جہاں نا خوش گواریاں بھی خوش گواریوں میں ڈھل جاتی ہیں۔ جہاں غم بھی اتنا ہی اہم بن جاتا ہے جتنا خوشی اور مسرت۔ پھر اسلام آدمی کو انسانی موشگافیوں والے دین سے نکالتا ہے۔ وہ آدمی کو جھوٹے رسم و رواج والے مصنوعی دین سے باہر لاتا ہے۔ وہ اس کو سچے دین سے آشنا کرتا ہے جہاں ایک طرف انسان ہوتا ہے اور دوسری طرف خدا۔ جہاں خدا اور بندے کے درمیان کوئی دوسری چیز حائل نہیں ، جہاں خدا سے ملنے کے لئے رسم و رواج کے بندھنوں میں اپنے کو باندھنے کی ضرورت نہیں۔ خدا ہر آن اپنے بندوں تک پہنچا ہوا ہے ، اسی طرح خدا کے بندے بھی ہر آن خدا تک پہنچ سکتے ہیں۔ خدا اور بندے کے درمیان کوئی رکاوٹ نہیں ، اس لئے خدا اور بندے کے ملاپ کے لئے کسی درمیانی واسطہ کی ضرورت بھی نہیں۔ انسان جب اس ابدی دنیا میں پہنچتا ہے تو وہ خدا کو بھی عین اسی مقام پر پا لیتا ہے جہاں وہ خود کھڑا ہوا ہے۔ اسلام توحید کا دین ہے۔ اسلام میں خدا ایک ہے اور ساری خدائی بھی اسی ایک ذات کو حاصل ہے۔ جو لوگ اس خالص توحید کو پالیں وہ ایسی لامحدود دنیا میں پہنچ جاتے ہیں جہاں آفاقیت ہی آفاقیت ہے ، اور جہاں ابدیت ہی ابدیت ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page