Urdu book · اسلامی تعلیمات

اسلام کی آفاقیت

Urdu book, p. 142

By Maulana Wahiduddin Khan

الله ومن ضيق الدنيا الى سعتها ومن جور الادبيان الى عدل الاسلام اللہ نے ہم کو بھیجا ہے اور اللہ ہم کو یہاں لے آیا ہے تاکہ جس کے بارہ میں وہ چاہے اس کو بندوں کی بندگی سے نکال کر خدا کی بندگی میں داخل کریں اور دنیا کی تنگی سے نکال کر اس کو اس کی وسعت میں پہنچا دیں۔ اور مذاہب کی زیارتیوں سے چھٹکارا دے کر اس کو اسلام کے عدل وانصاف میں لے آئیں۔ ربعی بن عامر رض نے اپنے اس قول میں نہایت مختصر طور پر مگر نہایت فصاحت کے ساتھ اسلام کے آفاقی اصولوں کو بیان کر دیا ہے۔ اسلام کی تعلیمات کی بنیاد پر جب ایک شخص کے اندر فکری انقلاب آتا ہے تو وہ مخلوقات سے گزر کر خالق کو پالینا ہے۔ وہ کائنات کے مالک کے ساتھ کھڑا ہو جاتا ہے۔ جو تمام تنگیوں اور محدودیتوں سے بلند ہے۔ اس سے پہلے وہ بندوں کی سطح پر ہی رہا تھا، اب وہ خدا کی سطح پر جینے لگتا ہے جو تمام آفاق سے اوپر ہے۔ اس سے پہلے اگر وہ ایک خول کے اندر تھا تو اب وہ خول کے باہر کی وسیع دنیا میں اپنے لئے زندگی کے مواقع پالینا ہے۔ عام حالت میں آدمی بندوں میں اٹکا ہوا ہوتا ہے۔ وہ اپنے ہی انسانوں کی طرف متوجہ رہتا ہے۔ وہ بس اپنے قدموں کے نیچے کی زمین کو جانتا ہے۔ مگر جب وہ خدا کو پاتا ہے اور خدا کا عبادت گزار بنتا ہے تو وہ انسانوں سے اوپر اٹھ جاتا ہے۔ انسانی دوستیاں اور دشمنیاں اس کی نظر میں حقیر بن جاتی ہیں۔ وہ انسانی شکایتوں اور انسانی محبتوں سے گزر جاتا ہے۔ اس کی روح لامحدود پہنائیوں میں سفر کرنے لگتی ہے جہاں چھوٹی چھوٹی چیزوں میں الجھنے کا کوئی سوال ہی نہیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page